الیکشن کمشنر کے استعفیٰ پر شدید ردعمل‘ کمیشن کو’پرائیویٹائز‘ کرنے کا الزام
ممبئی: لوک سبھا انتخابات سے چند دن قبل الیکشن کمشنر ارون گوئل کے حیرت انگیز استعفیٰ دینے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے، شیو سینا (یو بی ٹی) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے اتوار کو پول پینل کو بی جے پی کی توسیعی شاخ قرار دیا ہے۔اتوار کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے راؤت نے مرکز میں برسراقتدار پارٹی بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کو بی جے پی نے ‘پرائیویٹائز’ کر دیا ہے۔ الیکشن کمیشن بی جے پی کی ایک توسیعی شاخ بن گیا ہے۔ یہ اب وہی الیکشن واچ ڈاگ نہیں رہا جیسا کہ (سابق چیف الیکشن کمشنر) ٹی این شیشن کے دور میں تھا۔ کمیشن جو کہ ایک قابل اعتماد پولنگ ادارہ ہوا کرتا تھا وہ آج اپنی ساکھ کھو چکا ہے۔ پچھلے 10 سالوں میں (بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے کے تحت) الیکشن کمیشن کو پرائیویٹائز کیا گیا ہے۔ انہوں نے انتخابی ادارے کے طرز عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ شیو سینا (یو بی ٹی) اور این سی پی نے تجربہ کیا ہے کہ ان دنوں الیکشن کمیشن کیسے کام کرتا ہے۔ انہوں نے این سی پی کو ایسے لوگوں کے ہاتھ میں دے دیا جو پارٹی کی ملکیت لینے کے لائق نہیں تھے ۔ الیکشن کمیشن، جیسا کہ ہم جانتے تھے، مر چکا ہے اور آنسو بہانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ الیکشن کمیشن نے حال ہی میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے اجیت پوار گروپ کو پارٹی میں تقسیم کے بعد پارٹی کا نام اور گھڑی کا انتخابی نشان استعمال کرنے کی اجازت دی ہے۔ اجیت پوار اور این سی پی کے آٹھ دیگر قانون سازوں نے گزشتہ سال جولائی میں مہاراشٹرا کے حکمراں اتحاد میں شمولیت اختیار کی تھی۔ پوار نے تھوڑی دیر بعد نائب وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لیا۔الیکشن کمیشن نے شنڈے گروپ کو بھی اصلی شیو سینا کے طور پر جائز قرار دیا کیونکہ اسے کمان اور تیر کا نشان الاٹ کیا گیا تھا جبکہ ٹھاکرے کی سربراہی میں گروپ اب شیو سینا (ادھو بالاصاحب ٹھاکرے) کے نام سے ہے اور اپنے نشان کے طور پر’بھڑکتی ہوئی مشعل‘ کا استعمال کرتا ہے۔