ہمارے پاس ہیرا پھیری کے 100 فیصد ثبوت موجود ہیں‘کانگریس قائد کا دعویٰ
نئی دہلی۔24؍جولائی ( ایجنسیز)لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر اور کانگریس رہنما راہول گاندھی نے جمعرات کو الیکشن کمیشن کو خبردار کیا کہ اپوزیشن انہیں بہار میں اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) مشق سے بچنے نہیں دے گی۔لوک سبھا کی کارروائی ملتوی ہونے کے فوراً بعد، انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے کہاکہ میں الیکشن کمیشن کو پیغام دینا چاہتا ہوں۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس سے بچ جائیں گے، اگر آپ کے افسران کو لگتا ہے کہ وہ اس سے بچ جائیں گے تو آپ غلط ہیںکیونکہ ہم آپ کے خلاف کارروائی کریں گے۔انہوں نے الیکشن کمیشن آف انڈیاپر کرناٹک میں ووٹر لسٹ پر نظرثانی کے عمل کے دوران دھوکہ دہی کا الزام لگایا۔راہول گاندھی نے دعویٰ کیا کہ ان کے پاس مبینہ ہیرا پھیری کے 100 فیصد ثبوت ہیںجس میں ووٹروں کو شامل کرنا اور حذف کرنا شامل ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ ایک حلقہ میں 50، 60 اور 65 سال کی عمر کے ہزاروں نئے ووٹرز کو فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور 18 سال سے زائد عمر کے اہل ووٹرز کو فہرست سے ہٹا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہمارے پاس 100 فیصد ثبوت ہیں کہ الیکشن کمیشن نے کرناٹک میں ایک سیٹ پر دھوکہ دہی کی اجازت دی۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صرف ایک حلقہ دیکھا اور یہ پایا۔ مجھے یقین ہے کہ ہر حلقے میں یہی ڈرامہ چل رہا ہے۔انہوں نے کہا، ”ایک حلقے میں ہزاروں نئے ووٹرز جوڑے گئے ہیں، جن کی عمریں 50، 60، 65 سال ہیں۔ پھر 18 سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے نام کاٹے جا جا رہے ہیں۔اپو زیشن پارٹیوںکا دعویٰ ہے کہ اس عمل کو ووٹر لسٹ سے مخصوص ووٹروں کا نام ہٹانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جس کا اثر آئندہ اسمبلی انتخابات کے نتائج پر پڑ سکتا ہے۔راہول گاندھی نے اپنے اس دعوے کو دہراتے ہوئے کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں نہیں نبھا رہا ہے اور یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔انہوں نے آج جو بیان دیا ہے وہ سراسر بکواس ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنا کام نہیں کر رہا۔دریں اثنا، الیکشن کمیشن نے نظرثانی کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد انتخابی فہرستوں سے نااہل ووٹرز کو نکال کر انتخابات کی شفافیت کو یقینی بنانا ہے۔