راجستھان، گجرات، ایم پی ، چھتیس گڑھ، یو پی ، بنگال، آسام اور کیرالا میں بے ضابطگی
نئی دہلی، 29 جنوری (یو این آئی) کانگریس نے ووٹر لسٹ کی خصوصی جامع نظرِثانی (ایس آئی آر) کے دوران فارم7کے مبینہ غلط استعمال کے معاملے پر الیکشن کمیشن سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے ۔کانگریس کے جنرل سیکریٹری کے سی وینوگوپال نے جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر کو خط لکھ کر الزام عائد کیا کہ کئی ریاستوں میں منصوبہ بند طریقے سے اہل ووٹروں کے نام فہرست سے ہٹانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔کانگریس پارٹی کا دعویٰ ہے کہ راجستھان، گجرات، مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اتر پردیش، مغربی بنگال، آسام اور کیرالا سمیت 12 ریاستوں میں فارم7کے ذریعے بڑے پیمانے پر اعتراضات داخل کیے گئے ۔ ان اعتراضات کا نشانہ درج فہرست ذاتیں، درج فہرست قبائل، اقلیتیں اور 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ شہری بنائے گئے ۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کئی فارم پہلے سے چھپے ہوئے تھے اور ان میں اعتراض داخل کرنے والے فرد کی شناخت، معتبر دستاویزات اور درست تفصیلات موجود نہیں تھیں۔کانگریس نے الزام لگایا کہ جانچ کے دوران کئی معاملات میں مبینہ اعتراض کنندگان بی جے پی سے وابستہ بوتھ لیول ایجنٹ نکلے یا ایسے افراد پائے گئے جنہوں نے خود کسی درخواست دینے سے انکار کیا۔ آسام میں صورتحال کو خاص طور پر سنگین بتایا گیا ہے ۔ کانگریس نے کہا کہ اگر اس پر کارروائی نہ کی گئی تو لاکھوں ووٹروں کا حقِ رائے دہی سلب ہو سکتا ہے ۔ پارٹی نے الیکشن کمیشن سے قصورواروں کی شناخت کر کے ان کے خلاف فوری جانچ اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔