امارات: نسل کشی کیس میں آئی سی جے کو اختیار نہیں

   

ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن پر دستخط کرنے کے اپنے ‘تحفظات’ کا استعمال کرتے ہوئے دلیل دی کہ دارفور میں نسل کشی سے متعلق سوڈان کے الزامات پر بین القوامی عدالت کو کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ہالینڈ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے پیر کے روز سوڈان کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے دارفور میں نسل کشی کو ہوا دینے کا کام کیا۔گزشتہ ماہ خرطوم نے اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت کے سامنے یہ دلیل دی تھی کہ متحدہ عرب امارات نیم فوجی دستوں کو ہتھیار فراہم کر کے اقوام متحدہ کی نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔اس معاملے میں بین الاقوامی عدالت انصاف کے ججوں نے اپنے فیصلے میں متحدہ عرب امارات کا ساتھ دیا اور اس کے ان دلائل کو قبول کر لیا کہ اقوام متحدہ کی عدالت کے پاس اس کیس پر فیصلہ کرنے کے دائرہ اختیار کا بظاہر فقدان ہے۔سوڈان نے عدالت سے خلیجی ملک کے خلاف فوری طور پر بعض اقدامات کی درخواست کی تھی۔تاہم متحدہ عرب امارات نے اپنے حق میں مضبوطی سے دلیل دی کہ عدالت اس معاملے پر فیصلہ دینے کیلئے قانونی طور پر اہل ہی نہیں ہے۔جب متحدہ عرب امارات نے 2005 میں اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن پر دستخط کیے تھے، تو اس نے ایک اہم شق سے متعلق اپنے تحفظ کو بھی اس میں شامل کیا تھا، جس کے تحت تنازعات کی صورت میں ایک ملک کو دوسرے ملک کے خلاف آئی سی جے میں مقدمہ چلانے کی اجازت ہوتی ہے۔
تاہم چونکہ اس وقت امارت نے یہ تحفظ حاصل کر لیا تھا، اس لیے آئی سی جے کو اب اس پر مقدمہ چلانے کا اختیار نہیں ہے۔اماراتی فریق نے کہا کہ اس ریزرویشن کا مطلب یہ ہے کہ ہیگ میں قائم آئی سی جے کے پاس اس معاملے میں مداخلت کا کوئی اختیار ہی نہیں ہے۔اقوام متحدہ کی اعلیٰ عدالت نے بھی اس بات سے اتفاق کیا، البتہ اس نے خطے میں تشدد پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کیا۔آئی سی جے نے کہا کہ اسے “سوڈان میں انسانی المیے پر گہری تشویش ہے، جو موجودہ تنازعہ کا پس منظر پیش کرتا ہے۔ عدالت نے مزید کہا کہ پرتشدد تنازعہ کا تباہ کن اثر یہ ہے کہ جس کے نتیجے میں جانوں کا بے حساب نقصان اور مصائب، خاص طور پر مغربی دارفور میں ہو رہا ہے۔ اپنے فیصلے میں، ججوں نے مزید کہا کہ استثنیٰ کے باوجود بھی ریاستیں اپنے آپ سے منسوب ایسے اقدامات کیلئے ذمہ دار ہیں، جو ان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے خلاف ہوں۔