امریکہ ، عمران خان کے دعوؤں کے متعلق پاکستانی فوج کے بیان سے متفق

   

واشنگٹن : امریکہ نے ایک بار پھر کہا کہ پاکستان میں عمران خان حکومت کی برطرفی کیلئے مبینہ امریکی سازش کے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ اور واشنگٹن اس حوالے سے پاکستانی فوج کے ترجمان کے حالیہ بیان سے متفق ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ وہ پاکستانی فوج کے اس بیان سے اتفاق کرتے ہیں جس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف ’’سازش‘‘ میں امریکہ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ہیں۔جمعہ معمول کی پریس بریفنگ میں جب امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان سے پوچھا گیا کہ پاکستان فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ عمران خان کی حکومت کے خاتمے کی دھمکی یا سازش میں امریکہ کے ملوث ہونے کے شواہد نہیں ملے ہیں، اس پر آ پ کیا کہیں گے؟ تو اس کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم ان سے اتفاق کرتے ہیں۔جب نیڈ پرائس سے کہا گیا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان اپنے دعوے پر قائم ہیں اور اب بھی امریکہ پر ہی الزام عائد کررہے ہیں تو انہوں نے کہا،”اس حوالے سے ہمارا پیغام واضح ہے۔نیڈ پرائس نے مزید کہاکہ ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔ ہم آئینی اور جمہوری اقدار، جن میں انسانی حقوق بھی شامل ہیں، کی پرامن پاسداری کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر زور دیتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستان یا دنیا میں کہیں بھی کسی ایک سیاسی جماعت پر دوسری کو ترجیح نہیں دیتے۔یاد رہے کہ پاکستانی فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار نے جمعرا ت کو پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کسی ’’سازش‘‘ کا ذکر نہیں ہے۔واضح رہے کہ عمران خان گزشتہ کئی روز سے امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر کی جانب سے لکھے گئے ایک خط کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کا دعویٰ رہا ہے کہ ان کی حکومت گرانے کے لئے سازش امریکہ نے تیار کی تھی اور اسی سازش کے تحت اپوزیشن ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لائی تھی۔