امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ عالمی امن کو خطرہ

   

22 مارچ کو دفتر سیاست میں احتجاجی اجلاس۔ اہم شخصیتیں شرکت کریں گی
حیدرآباد ۔ 20 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : عالمی امن کے فروغ اور سامراج کے خاتمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مختلف سماجی و ادبی حلقوں نے 21 مارچ کو عالمی یوم شاعری کو سامراج مخالف مزاحمت کے طور پر منانے کی اپیل کی ہے اور اس سلسلے میں 22 مارچ 2026 بروز اتوار سہ پہر 3 بجے احاطہ دفتر سیاست عابڈس میں ایک اہم اجلاس منعقد کیا جارہا ہے ۔ جس کی صدارت ڈاکٹر بھٹو لکشمی نارائنا کریں گے ۔ نیوز ایڈیٹر سیاست جناب عامر علی خاں ، صدر نشین ریاستی لائبریری ڈاکٹر ریاض ، اے کے پربھاکر ، وحید ایڈیٹر گیٹورائے ، شام وبھولا شیوکمار سینئیر ایڈوکیٹ محبوب علی و دیگر اہم شخصیات خطاب کریں گی ۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کی ساری دنیا میں مذمت کی جارہی ہے ۔ ایران میں ایک اسکول پر اچانک حملے سے 165 طالبات جاں بحق ہوگئیں جبکہ 90 سے زائد زخمی ہوگئی جسے انسانیت کے خلاف سنگین جرم قرار دیا جارہا ہے ۔ ایران کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا جس کے بعد مختلف علاقوں میں مزائیل حملوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ کسی خود مختار ملک میں داخل ہو کر اس کے سربراہ کو قتل کرنا جنگی اصولوں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے ۔ امریکہ پر الزام عائد کیا جارہا ہے کہ وہ دنیا میں ’ پولیس ‘ کا کردار ادا کرکے دیگر ممالک کے داخلی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کررہا ہے ۔ بالخصوص ان ممالک میں جہاں تیل اور قدرتی وسائل موجود ہیں ۔ سامراجی جنگیں ہمیشہ معصوم شہریوں خصوصا خواتین اور بچوں کو نشانہ بناتی ہیں اور یہ انسانیت کیلئے گہرا زخم ہے ۔ عراق میں صدام حسین کی پھانسی اور لیبیاء میں معمر قذافی کے قتل کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ان مداخلتوں کے اثرات آج تک ان ممالک میں عدم استحکام کی صورت میں موجود ہیں ۔ اسی طرح ونیزویلا میں امریکہ نے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے کر دباؤ ڈالنے کی کوشش ، جبکہ ہندوستان سمیت دیگر ممالک کو تیل کی خریداری میں دھمکایا جارہا ہے ۔۔ 2