واشنگٹن ۔ 2 اپریل (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں قوم سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ ’آج رات مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم بنیادی سٹریٹیجک مقاصد مکمل کرنے کے قریب ہیں۔‘صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ امریکہ، ایران کے خلاف جنگ میں اپنے مقاصد کی’تکمیل کے قریب‘ ہے اور اس تنازعے میں ’زبردست فتوحات‘ حاصل کرنے پر انہوں نے امریکی افواج کی تعریف کی۔ان کا کہنا تھا کہ ’ان گذشتہ چار ہفتوں میں ہماری مسلح افواج نے میدان جنگ میں تیز، فیصلہ کن اور زبردست فتوحات حاصل کی ہیں، ایسی فتوحات جیسی اس سے پہلے کم ہی لوگوں نے دیکھی ہوں گی۔‘ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے خلیجی عرب اتحادیوں اور اسرائیل کو ’نقصان اٹھانے یا ناکام ہونے‘ نہیں دے گا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوجی کارروائیوں کے 32 دن بعد، ایران ’واقعی اب کوئی خطرہ نہیں رہا۔‘امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہماری پیش رفت کی بدولت، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم جلد ہی اپنے تمام فوجی اہداف مکمل کرنے کی راہ پر ہیں۔’ہم آنے والے چند ہفتوں میں ان پر شدید حملے کریں گے اور انہیں واپس پتھر کے دور میں لے جائیں گے جہاں سے ان کا تعلق ہے۔‘امریکی صدر نے آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک پر زور دیا کہ وہ ’ہمت‘ کریں اور اس اہم آبی گزرگاہ پر قبضہ کر لیں۔ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا، ’دنیا کے وہ ممالک جو آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرتے ہیں، انہیں اس گزرگاہ کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔ بس اس پر قبضہ کریں، اس کی حفاظت کریں، اسے اپنے لیے استعمال کریں۔‘’ہم نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر بری طرح کمزور کر دیا ہے۔ جو ممالک آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل حاصل کرتے ہیں، اب انہیں اس گزرگاہ کی حفاظت خود کرنی ہو گی۔’ہم مدد کریں گے، لیکن انہیں اس تیل کے تحفظ میں خود قیادت کرنی چاہیے جس پر وہ شدت سے انحصار کرتے ہیں۔‘
ٹرمپ ایران میں امریکی اہداف کے حوالے سے
واضح تھے : امریکی وزیر خارجہ
واشنگٹن ۔ 2 اپریل (ایجنسیز) جنگ کے آغاز کے بعد صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے پہلے خطاب کے بعد امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ حکام نے فوری طور پر ان کے موقف کی تائید اور حمایت کی ہے۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک ٹویٹ میں ایران کو “پتھر کے زمانے” میں واپس بھیجنے کی دھمکی دی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی “ایکس” پر اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ ایران میں امریکی اہداف کے حوالے سے واضح تھے، جہاں اسلحہ سازی کے کارخانے، ایران کی بحری و فضائی صلاحیتیں تباہ کر دی گئی ہیں اور جوہری ہتھیاروں کے حصول کے مواقع ختم کر دیے گئے ہیں۔ روبیو نے مزید کہا کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت دنیا کو یہ پیغام دے رہی ہے کہ امریکہ اپنے عوام اور مفادات کا دفاع کرے گا اور طاقت کے ذریعے امن برقرار رکھے گا۔ٹرمپ نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ امریکہ ایران میں “مشن” کے خاتمے کے بہت قریب پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ فوجی آپریشن جلد ختم ہو جائے گا، جبکہ اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ یہ معاملہ دو سے تین ہفتوں میں حل ہو جائے گا، کیونکہ ان کے مطابق “جنگ کا مشکل ترین حصہ” ختم ہو چکا ہے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی افواج نے گذشتہ چار ہفتوں کے دوران ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں میں “بڑی جیت” حاصل کی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن نے تہران کی فوجی صلاحیتوں کو “حیرت انگیز طور پر” ختم کر دیا ہے اور میزائل لانچنگ پیڈز و ڈرونز کو کافی حد تک تباہ کر دیا ہے، نیز انہوں نے کہا کہ ایرانی بحریہ کا خاتمہ کر دیا گیا ہے اور ایران کی خطے اور پڑوسی ممالک کو دھمکانے کی صلاحیت تقریباً ختم ہو چکی ہے۔
ٹرمپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا، امریکی نائب صدر کا ایران کیلئے سخت پیغام
واشنگٹن ۔ 2 اپریل (ایجنسیز) ایک ایسے وقت میں جب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان بیانات کی تردید کی ہے کہ تہران نے جنگ بندی کی درخواست کی تھی، باخبر ذرائع نے امریکی موقف میں مزید سختی کا انکشاف کیا ہے۔ سخت پیغامایک ذریعے نے بتایا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک سخت پیغام پہنچایا ہے کہ ٹرمپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو رہا ہے۔ انہوں نے معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں ایرانی انفراسٹرکچر پر دباؤ بڑھانے کی وارننگ دی ہے۔ ذریعے نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے وینس کو ہدایت دی ہے کہ وہ ثالثوں کو بتائیں کہ واشنگٹن جنگ بندی کیلئے تیار ہے بشرطیکہ کچھ مخصوص امریکی مطالبات پورے کیے جائیں۔ ان شرائط میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا بھی شامل ہے۔رائٹرز کے مطابق انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ جے ڈی وینس نے منگل کے روز تک ایرانی تنازع کے حوالے سے ثالثوں کے ساتھ رابطے جاری رکھے۔ یہ سب اس وقت سامنے آیا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ نئے ایرانی صدر نے جنگ بندی کی درخواست کی ہے۔ ٹرمپ نے پلیٹ فارم ’’ ٹروتھ سوشل ‘‘ پر ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے نئے صدر، جو اپنے پیشروؤں سے کہیں کم انتہا پسند اور زیادہ ہوشیار ہیں، نے ابھی امریکہ سے جنگ بندی کی درخواست کی ہے!۔دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ٹرمپ کی باتوں کی تردید کردی ہے۔
انہوں نے کہا کہ تہران کی جانب سے جنگ بندی کی درخواست کے بارے میں ان کے بیانات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ اسی دوران ایرانی پاسداران انقلاب نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سٹرٹیجک آبنائے ہرمز ملک کے دشمنوں کیلئے بند رہے گی۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی پر صرف اس صورت میں غور کریں گے جب آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے۔ پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پاسداران انقلاب کی بحری افواج کے مکمل کنٹرول میں ہے۔ سرکاری ٹیلی ویڑن پر آج بدھ کو نشر ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ ایران کے دشمنوں کیلئے نہیں کھلے گی۔یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب ٹرمپ نے بدھ کے روز دھمکی دی ہے کہ اگر آبنائے کو نہ کھولا گیا تو وہ ایران پر بمباری جاری رکھیں گے یہاں تک کہ اسے دوبارہ پتھر کے دور میں پہنچا دیں گے۔