اعلیٰ حکام حملے کیلئے تیار ، صدر ٹرمپ کے قطعی فیصلے کا انتظار ، ایران پر نیوکلیئر معاہدہ کیلئے دباؤ
واشنگٹن، 19 فروری (یو این آئی) امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج اس ہفتے کے آخر تک ایران پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے ، تاہم صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے ، جہاں ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے مشرقِ وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے ۔ امریکی میڈیا سی بی ایس نے دعویٰ کیا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق اعلیٰ حکام نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کیا ہے کہ وہ ہفتے تک ایران پر حملے کے لیے تیار ہیں، تاہم صدر ٹرمپ نے اس معاملے پر ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ امریکی حکام نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس میں اس وقت مسلسل مشاورت جاری ہے ، جہاں ممکنہ حملے سے منسلک خطرات، ایران کے ردعمل اور سیاسی و عسکری نتائج پر غور کیا جا رہا ہے ۔ پینٹاگون کے ترجمان نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا، جبکہ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیویٹ نے کہا کہ ایران پر حملے کے کئی جواز موجود ہیں، لیکن صدر کی ترجیح ہمیشہ سفارت کاری رہی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ صدر ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ اور تعاون کرے ، تاکہ کشیدگی کم کی جا سکے ۔ امریکی حکام کے مطابق خطے میں جنگی طیاروں، ریفیولنگ ٹینکرز، اور دو ایئرکرافٹ کیریئر گروپس سمیت بڑی فوجی طاقت تعینات کی جا چکی ہے ، جس کے بعد امریکہ کے پاس ایران کے خلاف فوری فوجی کارروائی کا آپشن موجود ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس فوجی تیاری کا مقصد ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل سسٹم اور لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنانا ہو سکتا ہے ، تاہم تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں، جنیوا میں ہونے والے حالیہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ضرور ہوئی، لیکن دونوں ممالک کے درمیان بڑے اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔ امریکہ مسلسل ایران سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ یورینیم افزودگی مکمل طور پر بند کرے ، جبکہ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گا۔ ادھر اسرائیل بھی ممکنہ جنگی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ پر ہے ، اور وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو ایران کے خلاف سخت کارروائی کے حامی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ایک بار پھر حملہ ہوتا ہے تو خطے میں بڑے پیمانے پر جنگ بھڑک سکتی ہے اور ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل پر شدید میزائل حملوں کا خدشہ ہے ۔ یاد رہے کہ 2025 میں بھی امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے جوہری تنصیبات پر حملے کیے تھے ، جس کے بعد صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی تھی۔