دوبئی۔ 17 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ایران نے آج ایک اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے میزائل پروگرام کا جو تذکرہ کیا ہے، وہ دراصل امریکہ کی اس خطہ میں ہتھیار فروخت کرنے کی پالیسی کو چیلنج کرنا ہے ناکہ اس نوعیت کی بات چیت کے لئے رضامندی ظاہر کرنا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے منگل کو اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ محمد جواد ظریف کے تبصرہ کے بعد گیند اب امریکہ کی جانب ہے کیونکہ تبصرہ کا مقصد مشرق وسطی خطہ میں امریکہ کے ہتھیار فروخت کرنے کی پالیسی کو چیلنج کرنا ہے۔ یاد رہے کہ جواد ظریف نے این بی سی کے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر امریکہ، ایران کے میزائلس کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہے تو اس کے لئے امریکہ کو سب سے پہلے ہتھیاروں کی فروخت کو روکنا ہوگا جس میں میزائلس بھی شامل ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ایران نے اپنے میزائلس سے متعلق بات چیت کے لئے کبھی بھی رضامندی کا اظہار نہیں کیا جبکہ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے بھی جواد ظریف کے تبصرہ کو مفروضہ قرار دیا ہے۔
