ووٹوں کی گنتی روک دینے ٹرمپ کا زور، فلاڈلفیا اور پٹسبرگ میں گنتی روک دی گئی
واشنگٹن: امریکی صدارتی انتخاب میں تقریباً تمام ریاستوں میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ 50 میں سے 44 ریاستوں کے متوقع نتائج جاری کردیئے گئے ہیں جن کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جوبائیڈن کے پاس فی الوقت 253 الیکٹورل کالج ووٹ ہیں جبکہ صدر ٹرمپ نے 214 ووٹ حاصل کئے ہیں۔ امریکی عوام بھی دو حصوں میں منقسم ہوئے ہیں۔ ایک گروپ ٹرمپ کا حامی ہے دوسرا گروپ ٹرمپ کی مخالفت کررہا ہے۔ ٹرمپ کی حمایت میں کئی شہروں میں مظاہرے اور نعرے لگائے جارہے ہیں۔ مخالفین نے ٹرمپ کو وائیٹ ہاؤس سے باہر نکال دینے کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔ حمایت اور مخالفت میں جاری مظاہروں کے دوران عوام میں وائرس کی تشخیص بڑھ گئی ہے۔ جمعرات کو بعض امریکی شہروں میں مظاہرے دیکھے گئے۔ بعض مظاہرین نے ووٹوں کی گنتی جاری رکھنے کا مطالبہ کیا جبکہ بعض نے ووٹوں کی گنتی کو فوری روک دینے پر زور دیا۔ فی الحال مظاہرے پرامن طور پر کئے جارہے ہیں۔ 6 ریاستوں کے ووٹ دونوں صدارتی امیدواروں کے حق میں فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ پنسلوانیا کے 20 الیکٹورل ووٹ، جارجیا کے 16، مشی گن کے 16 الیکٹورل ووٹ کے علاوہ دیگر دو ریاستوں کے ووٹ ملا کر 76 الیکٹورل ووٹ ٹرمپ اور بائیڈن کیلئے وائیٹ ہاؤس کا راستہ صاف کریں گے۔ وسکنسن میں بائیڈن کی جیت متوقع بتائی گئی ہے۔ انہیں یہاں پر 10 الیکٹورل کالج ووٹ ملنے کی توقع ہے۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہیکہ وہ جوبائیڈن کی کامیابی پر ہرجانہ کا مقدمہ دائر کریں گے۔ اسٹیٹ سپریم کورٹ میں انہوں نے درخواست داخل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ٹرمپ نیواڈا، وسکنسن، مشی گن، پنسلوانیا اور جارجیا میں سخت کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ووٹوں کی گنتی روک دی گئی تو بائیڈن موجودہ رجحان کی بنیاد پر انتخاب جیت جائیں گے۔ نوئیڈا، پنسلوانیا، جارجیا اور اریزونا میں جملہ ووٹوں کا رات دیر گئے اعلان کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہیکہ ڈیموکریٹک امیدوار بائیڈن کو 70 فیصد امریکی مسلمانوں نے ووٹ دیا ہے۔ اس لئے ان کی جھولی میں سب سے زیادہ سیٹیں آئی ہیں۔