امریکہ میں پہلی بار نائٹروجن گیس کے ذریعہ سزائے موت پر عمل آوری

   

Ferty9 Clinic

نیویارک: امریکہ کی ریاست الاباما میں قتل کے ایک مجرم کو نائٹروجن گیس کی مدد سے سزائے موت دے دی گئی ہے۔ یہ امریکہ میں نائٹروجن گیس سے کسی بھی مجرم کی موت کی سزا پر عمل درآمد کا پہلا کیس ہے۔ریاست الاباما کے حکام کے مطابق 58 برس کے کینتھ اسمتھ کی سزا پر عمل درآمد ریاستی جیل میں جمعرات کی شب لگ بھگ ساڑھے آٹھ بجے کیا گیا۔حکام کا کہنا تھا کہ کینتھ کے چہرے پر ایک ماسک لگایا گیا جس کے ذریعے نائٹروجن گیس کا اخراج کیا گیا جو مجرم کیلئے آکسیجن گیس کے خاتمے کا سبب بنی۔اس سے قبل ریاست الاباما میں کسی بھی مجرم کی سزائے موت پر عمل درآمد کیلئے مہلک انجیکشن کا استعمال کیا جاتا تھا۔خبر رساں ادارے ’اسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق حکام کا بتانا ہے کہ کینتھ اسمتھ نامی مجرم کو 1988 میں کرائے کا قاتل قرار دیا گیا تھا جسے ایک پادری کی بیوی کو معاوضے کے عوض قتل کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ ریاست الاباما کی انتظامیہ نائٹروجن گیس کے ذریعے سزائے موت کے مجرموں کی سزا پر عمل درآمد کا آسان طریقہ قرار دے رہی ہے۔ البتہ ناقدین اسے ظالمانہ اور تجرباتی طریق کار قرار دے رہے ہیں۔ ایک وفاقی جج نے 10 جنوری 2024 کو اپنے ایک فیصلے میں سزائے موت کے اس نئے طریق کار کے استعمال کی اجازت دی تھی۔اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے بھی تین روز قبل ریاست الاباما سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نائٹروجن گیس سے دم گھونٹنے سے کسی قیدی کو دی جانے والی پہلی طے شدہ سزائے موت کو روک دے کیونکہ یہ اقدام اذیت دینے کے مترادف ہے جب کہ بین الاقوامی قانون کے تحت امریکی یقین دہانیوں کی خلاف ورزی ہے۔امریکہ کی ان ریاستوں میں جہاں سزائے موت کا قانون موجود ہے، وہاں اب بھی زہر کے انجکشن کے ذریعے موت کی سزا دی جاتی تھی۔ کئی ریاستوں میں موت کی سزا کا قانون موجود نہیں جب کہ بعض ریاستیں ایسی بھی ہیں جہاں سزائے موت تو موجود ہے لیکن انتظامیہ کی جانب سے اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔
امریکہ میں انجکشن کے ذریعے موت کی سزا پر عمل درآمد کا آغاز 1982 میں ہوا تھا۔