تہران : ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکہ نئے نئے مطالبات کرکے نیوکلیئر معاہدہ کو بحال کرنے کا عمل پیچیدہ بنا رہا ہے۔ انہوں نے تمام فریقین سے نیوکلیئر معاہدہ کو بحال کرنے کے لیے بقیہ حل طلب امور پر توجہ مرکوز کرنے کی اپیل کی ایران نیوکلیئر معاہدہ کی بحالی میں نئی نئی رکاوٹیں سامنے آرہی ہیں۔ اس معاہدہ کو یوکرین کی جنگ سے جوڑنے کی روس کی درخواست کے بعد اب ایران نے الزام لگایا کہ امریکہ نے بعض نئے مطالبات پیش کیے ہیں اور وہ 2015 کے نیوکلیئر معاہدہ کی بحالی کو پیچیدہ بنانے کا کام کر رہا ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، جن کی بات اہم حکومتی پالیسیوں میں حرف آخر کا درجہ رکھتی ہے، نے زور دے کر کہا کہ ان کا ملک جوہری ترقی اور علاقی اثرورسوخ جیسے اہم قومی مفادات سے دست بردار نہیں ہوگا۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق خامنہ ای نے کہا کہ ایران پرامن نیوکلیئر توانائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا تاکہ ترقی جاری رکھی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا جوہری توانائی پر روز بروز انحصار بڑھتا جارہا ہے اور ایران کو جلد یا بہ دیر پرامن نیوکلیئر توانائی کی ضرورت ہوگی۔ اگر ہم نے اس بارے میں آج نہیں سوچا تو کل بہت دیر ہوجائے گی اور اس وقت ہمارے ہاتھ خالی ہوں گے۔