واشنگٹن ۔ امریکہ نے وکی لیکس کے بانی جولین اسانج کو برطانیہ سے امریکہ کے حوالے کرنے کا مقدمہ جیت لیا ہے اور اب جولین امریکی قید میں رہ سکتے ہیں کیونکہ اس سے ان کی امریکی حوالگی کی راہ بظاہر ہموار ہوگئی ہے۔اسانج کے حق میں مظاہرہ بھی کیا گیا ہے۔ جمعہ کے روز برطانوی ہائی کورٹ نے امریکی درخواست کے حق میں فیصلہ دیدیا ہے۔ اس کے تحت قومی، فوجی اور عالمی راز افشا کرنے کے پاداش میں بیلمارش جیل میں سزا کاٹنے والے 50سالہ جولین اسانج کو امریکہ کے حوالے کیا جائے گا۔جولین اسانج اس وقت برطانوی جیل میں خفیہ فوجی دستاویز ’وکی لیکس‘ نامی ویب سائٹ پر جاسوسی کے الزام میں گرفتار ہیں لیکن اب بھی برطانوی عدالت کو اس کا حتمی اختیار ہے کہ جولین کو امریکہ بھیجا جائے یا نہیں۔ دوسری جانب امریکی وکیل نے کہا ہے کہ جولین کے ساتھ انسان دوست رویہ رکھا جائے گا۔اس موقع پر غیر معمولی سیکیورٹی کے باوجود سینکڑوں لوگوں نے جولین اسانج کے حق میں مظاہرہ کیا۔