تہران : 8 مارچ ( ایجنسیز ) امریکہ اور اسرائیل نے جنگ شروع ہونے کے بعد پہلی مرتبہ ایران کے آئل انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا ہے۔ رات گئے ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر حملے کیے گئے۔رپورٹس کے مطابق جنوبی تہران میں مرکزی ریفائنری کے قریب واقع آئل ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔شمال مغربی تہران میں بھی آئل ڈپو پر حملہ ہوا جہاں دور سے آگ کے خوفناک شعلے اور دھواں اٹھتا دیکھا گیا جبکہ دارالحکومت کے علاقے شہران میں ایک اور حملے کی اطلاع بھی ملی ہے۔اسرائیلی فوج کے مطابق طیاروں نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر ایرانی فوج کے زیر استعمال متعدد فیول اسٹوریج کمپلیکس کو نشانہ بنایا۔اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ ٹینک فوجی انفراسٹرکچر کی معاونت اور فوجی اداروں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے۔اسرائیلی فوج نے ان حملوں کو ایران کے فوجی انفراسٹرکچر کے خلاف کارروائیوں میں اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنے اور اپنے خلاف خطرات ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔
ایران کے پڑوسی ممالک پر حملے جاری، لبنان میں ہلاکتیں 400 تک پہنچ گئیں
تہران/تل ابیب، 8 مارچ (یو این آئی) امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی تیل کی ریفائنریوں اور ڈپوؤں پر کیے گئے شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں اتوار کی صبح دارالحکومت تہران کا آسمان سیاہ دھوئیں کی موٹی چادر سے ڈھک گیا۔ جواباً ایران نے اسرائیل کے علاوہ کویت، سعودی عرب، بحرین اور متحدہ عرب امارات پر بھی میزائل داغے ۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دہرایا کہ ایران کو ہتھیار ڈال دینے چاہئیںجس کا کرارا جواب دیتے ہوئے ایران نے کہا کہ وہ اپنی ایک انچ زمین بھی نہیں دے گا۔ تہران کے مقامی باشندوں کے مطابق تیل کے ڈپوؤں کے جلنے سے اٹھنے والا دھواں اتنا گھنا تھا کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے ‘سورج مکمل طور پر غائب ہو گیا ہو’۔ آگ پر قابو پانے کے لیے عملے کو سخت جدوجہد کرنی پڑی۔ ایران نے ان حملوں کا جواب دیتے ہوئے کویت میں ‘پبلک انسٹی ٹیوشن فار سوشل سیکیورٹی’ کی کثیر المنزلہ سرکاری عمارت کو ڈرون سے نشانہ بنایا جس سے عمارت میں شدید آگ لگ گئی۔ گزشتہ 28 فروری سے ایران پر شروع ہونے والے حملوں میں صرف ایک ہفتے کے دوران تقریباً 1200 شہریوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ایران نے اتوار کے روز بھی اپنے پڑوسی ممالک کو نشانہ بنایا۔ کویتی فوجی حکام کے مطابق ایرانی ڈرونز نے کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ایندھن کے ٹینکوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ کویتی فضائی دفاعی نظام نے کئی ڈرون مار گرائے تاہم ملبہ گرنے سے ہوائی اڈے کے ٹرمینل کو جزوی نقصان پہنچا۔ کویتی فوج کے مطابق گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران 12 ڈرون اور 14 میزائل تباہ کیے گئے ۔ دوسری جانب لبنان میں بھی اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں۔ لبنان کے وزیر صحت کے مطابق آغاز کے بعد سے اب تک ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 394 تک پہنچ گئی ہے ۔ جنگ کے پھیلتے دائرے اور شہری علاقوں کو نشانہ بنائے جانے سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے ۔ بحرین کی وزارت داخلہ نے الزام لگایا کہ ایران نے سمندری پانی صاف کرنے والے ایک پلانٹ کو نقصان پہنچایا ہے ۔ دبئی کے جبل علی بندرگاہ اور ایک ڈیٹا سینٹر میں بھی آگ لگنے کی اطلاعات ہیں۔ اس کے علاوہ ابوظہبی کے ہوائی اڈوں کے قریب بھی حملے کی خبریں ہیں۔ سعودی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ریاض کے سفارتی علاقے کی جانب آنے والے ایک ایرانی ڈرون کو مار گرایا گیا۔ اسی دوران عمان اور قطر نے بھی اپنے فضائی حدود میں ایرانی میزائلوں کی نقل و حرکت کی تصدیق کرتے ہوئے احتیاطاً اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔
ایرانی صدر کی معذرت کے باوجود حملے بدستور جاری
تہران : 8 مارچ ( ایجنسیز)ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہفتہ کو خلیجی ممالک سے حالیہ میزائل اور ڈرون حملوں پر معذرت کرتے ہوئے کہا تھا کہ پڑوسی ممالک پر حملہ نہیں کریں گے جب تک اْن کی جانب سے حملہ نہ ہو۔تاہم جب سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات اور بحرین میں فضائی دفاعی سائرن بجے اور میزائلوں کو فضا میں روکنے کی اطلاعات موصول ہوئیں تو اس معذرت پر سوال اْٹھنے لگے۔عرب نیوز کے مطابق اس ساری صورتحال سے پورے خلیجی خطے میں بے یقینی پیدا ہوگئی ہے اور یہ تنازع اب دوسرے ہفتے میں داخل ہو چکا ہے۔سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے بتایا کہ ایک بیلسٹک میزائل جو پرنس سلطان ایئربیس کی جانب داغا گیا تھا، کم آبادی والے علاقے میں جا گرا تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔مقامی حکام کے مطابق کئی میزائل اور ڈرون فضا میں ہی روک دیے گئے جبکہ مختلف شہروں میں الرٹس اور معمولاتِ زندگی متاثر ہونے کی اطلاعات سامنے آئیں۔متحدہ عرب امارات کے حکام نے بتایا کہ فضا میں ایک حملہ روکنے کے بعد اس کا ملبہ دبئی مرینہ کے ایک ٹاور پر گرا جس سے معمولی نقصان ہوا تاہم کوئی زخمی نہیں ہوا اور صورتحال قابو میں ہے۔بحرین کی وزارتِ داخلہ نے بتایا کہ ایک حملے کے باعث منامہ میں آگ بھڑک اْٹھی جس سے ایک گھر اور چند دیگر عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ایران کی جانب سے نرم لہجہ اختیار کرنے کے بوجود میزائلوں کو روکنے کے واقعات جاری ہیں جس کی وجہ سے خطے کے حکام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ا?یا یہ معذرت واقعی کشیدگی کم کرنے کی سنجیدہ کوشش تھی یا صرف پیغام دینے کے انداز میں تبدیلی تھی جبکہ فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ نے کہا ہے کہ مسلسل حملوں کے باوجود ان کا ملک اب بھی امن کے راستے پر قائم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بحرین ایسے اقدامات اور کوششوں کی حمایت کرتا ہے جو خطے اور دنیا میں سکیورٹی اور استحکام کو مضبوط بنائیں۔بحرین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق بحرین کے بادشاہ نے کہا کہ بحرین کے عوام پْرامن ہیں اور برداشت اور مل جل کر رہنے پر یقین رکھتے ہیں۔