امریکہ کا دو ریاستی حل پر دوبارہ زور

   

واشنگٹن: امریکہ نے جمعرات کو دو ریاستی حل کیلئے اپنی حمایت کا اعادہ کیا جب اسرائیلی قانون سازوں نے فلسطینی ریاست کے قیام کو اپنے وجود کیلئے خطرہ قرار دیتے ہوئے مخالفت میں ووٹ دیا۔قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ میرے خیال میں میں اس کا بہترین جواب یہ سکتا ہوں کہ طاقت اور دو ریاستی حل کے وعدے پر اپنے پختہ یقین کا اعادہ کیا جائے۔”انہوں نے کلیدی اتحادی اسرائیل کے ووٹ پر براہِ راست تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا جس پر فلسطینی رہنماؤں اور اقوامِ متحدہ سمیت عالمی برادری نے تیزی سے تنقید کی تھی۔کربی نے صحافیوں کو بتایا، دو ریاستی حل کے حصول کیلئے ہم ہر ممکن کوشش کرتے رہیں گے۔محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے کہا: “میرے خیال میں یہ محفوظ طریقے سے کہا جا سکتا ہیکہ قانون سازی کا ایک حصہ جو دو ریاستی حل کے خلاف ہے، ایسی چیز نہیں ہے جس کے بارے میں ہم بہت خوش ہوں گے۔”اسرائیل کی پارلیمنٹ کنیسٹ نے جمعرات کو ایک علامتی قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا ہیکہ اسرائیلی فوج کے زیرِ قبضہ زمین پر ایک فلسطینی ریاست “اسرائیلی-فلسطینی تنازعہ کو دوام بخشے گی اور خطے کو غیر مستحکم کرے گی۔اس میں کہا گیا، اسرائیل پر سات اکتوبر کے حملے کے بعد فلسطینی ریاست کو ’’فروغ دینے‘‘ سے ’’صرف حماس اور اس کے حامیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ ووٹنگ کی منظوری اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اگلے ہفتے واشنگٹن کے دورے سے قبل دی گئی جس کے دوران وہ امریکی کانگریس سے خطاب کریں گے۔امریکہ اسرائیل کا اہم سیاسی اور فوجی حمایتی ہے لیکن دونوں ممالک فلسطینی ریاست کے معاملے پر بنیادی طور پر مخالف ہیں۔