امریکہ کا مزید 12 روسی سفارتکاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ

   

واشنگٹن : امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں تعینات روس کے 12 سفارتکاروں کو جاسوسی کے الزامات عائد کرتے ہوئے ملک بدر کرنے کا اعلان کیا ہے۔اقوام متحدہ میں امریکی مشن کی ترجمان اولیویا ڈالٹن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں روس کے مستقل مشن میں شامل 12 انٹیلی جنس اہل کاروں کو نکالنے کو فیصلہ کیا ہے جو جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہو کر امریکہ میں رہائش کے استحقاق کا غلط استعمال کر رہے تھے۔اْن کے بقول امریکہ نے اس فیصلے سے اقوامِ متحدہ اور وہاں تعینات روس کے مستقل مشن کا آگاہ کر دیا ہے۔ترجمان نے کہا کہ روسی اہلکاروں کا جاسوسی کی سرگرمیوں میں ملوث ہونا امریکہ کی قومی سلامتی کے منافی ہے۔ لہٰذا یہ کارروائی اقوامِ متحدہ ہیڈکوارٹر کے معاہدے کے مطابق کی جا رہی ہے اور اس پر کئی ماہ سے کام جاری تھا۔اقوامِ متحدہ میں روس کے سفیر واسلی نیبنزیا نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ نے ان روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کیلئے 7مارچ تک کا وقت دیا ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ یہ امریکی حکومت کا ’دشمنی پر مبنی‘ اقدام ہے اور اقوامِ متحدہ کے میزبان ملک کے طور پر واشنگٹن کی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہے۔ اس حکم کو ’’افسوسناک خبر‘‘ قراردیتے ہوئے نیبنزیا نے دعویٰ کیا کہ میزبان ملک امریکہ، اقوامِ متحدہ کے چارٹر، میزبان ملک کے معاہدہ اور ویانا کنونشن کے تحت اپنے وعدوں کی توہین کر رہا ہے کیونکہ ویانا کنونشن کا اطلاق سفارتکاروں کیساتھ سلوک پر بھی ہوتا ہے۔یاد رہیکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں روسی سفارتکاروں کو نا پسندیدہ قرار دیا ہے۔ 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ نے اسی نوعیت کے الزامات کے تحت 12 روسی سفارتکاروں کو اقوامِ متحدہ کے مشن سے نکال دیا تھا۔اقوامِ متحدہ میں روسی سفیر نے یوکرین میں انسانی بحران کے خدشے سے متعلق سیکیورٹی کونسل کے اجلاس پر کہا کہ ایک جانب ہمیں سفارتکاری کا درس دیا جا رہا ہے تو وہیں ایسی کارروائیوں کے ذریعے ہمارے آپشنز محدود کیے جا رہے ہیں۔