واشنگٹن/ تہران : امریکہ نے میزائل تیار کرنے والی 2 ایرانی کمپنیوں سے پابندیاں ہٹا لیں۔ امریکی وزارت خزانہ ایک بیان میں کہا ممود انڈسٹریز اور اس کی ذیلی فرم ممود ڈیزل نامی میزائل تیار کرنے والی 2 فرموں پر عائد امریکی پابندیاں ہٹا دی گئی ہیں۔ ان فرموں کو ایرانی نیوکلیئرسرگرمیوں اور خطہ میں عدم استحکام کی کارروائیوں میں تعاون کا الزام لگا کر سابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ستمبر 2020ء میں بلیک لسٹ کیا تھا۔ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جوہری معاہدے کی بحالی کے لیے بالواسطہ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے حوالے سے امریکہ کا یہ اقدام نہایت اہم ہے۔ اسی تناظر میں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان سعید خطیب زادہ نے کہا ہے کہ تہران نے فور پلس ون گروپ یعنی روس، چین، فرانس، برطانیہ، جرمنی کے ساتھ ویانا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق ہفتہ کے روز اخباری بیان میں خطیب زادہ نے کہا کہ یہ فیصلہ بات چیت پر نظر ثانی کا پہلا مرحلہ ختم ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیوکلیئرمذاکرات کا از سر نو جائزہ لینے کا دوسرا مرحلہ مستقبل قریب میں کسی نتیجے تک پہنچ جائے گا۔ ترجمان کے مطابق سابقہ مذاکرات پر نظر ثانی مکمل ہونے کے ساتھ ہی نئی بات چیت شروع ہو جائے گی۔ خطیب زادہ کا کہنا تھا کہ نئی ایرانی حکومت نیوکلیئرمذاکرات کے سابقہ 6ادوار کا جائزہ لے رہی ہے۔ فرانس 24 کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میں خیال کرتا ہوں کہ مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کے لیے مقررہ عرصہ اس دورانیے سے کم ہو گا، جو امریکی صدر کی ٹیم کو مذاکرات میں واپسی کے لیے درکار ہوا۔ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جمعہ کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک جوہری معاہدے کی بحالی کے حوالے سے جاری بات چیت کے سلسلے میں پر امید ہے کہ یہ مذاکرات بار آورثابت ہوں گے بشرطیکہ کہ امریکہ اس حوالے سے مکمل پاسداری پر عمل کرے۔