امریکہ کیلئے مسلم ممالک پرسفری پابندی پہلے ہی دن ختم کرنے بائیڈن کا منصوبہ

,

   

۔20جنوری کو حلف برداری تقریب، امریکہ کی 50 ریاستوں میں مسلح مظاہروں کا اندیشہ ،الرٹ جاری

واشنگٹن : امریکہ کے نو منتخب صدر جوبائیڈن کا منصوبہ ہے کہ وہ اقتدار کے پہلے ہی دن کئی اہم احکامات پر دستخط کریں گے جن میں پیرس ماحولیاتی معاہدہ کے علاوہ امریکہ کیلئے مسلم ممالک پر عائد سفری پابندی کو ختم کرنا بھی شامل ہے ۔ چیف آف اسٹاف ران کلین کے میمو کے مطابق جوبائیڈن ان احکامات پر بھی سائن کریں گے جس کے ذریعہ کورونا وائرس وباء کے دوران طلباء کے لون کی ادائیگی اور ان کے انخلاء کو روک دیا جائے گا ۔ امریکہ میں نومنتخب صدر جو بائیڈن کی تقریب حلف برداری سے قبل تمام 50 ریاستوں کے علاوہ وفاقی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ہفتہ وار چھٹیوں کے دوران ممکنہ مسلح مظاہروں کا الرٹ جاری کیا گیا ہے۔نیشنل گارڈ کے مزید فوجی دستوں کو فوراً واشنگٹن ڈی سی بھیجا گیا ہے اور انھیں چوکنا رہنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ 6 جنوری جیسے خطرناک فسادات ہونے سے بچا جاسکے۔امریکی تحقیقاتی ادارے ایف بی آئی نے متنبہ کیا ہے کہ تمام ریاستوں میں صدر ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے مسلح احتجاجی مظاہرے ہوسکتے ہیں۔دریں اثنا جو بائیڈن کی ٹیم نے ایک منصوبہ تشکیل دیا ہے جس میں ٹرمپ کی اہم پالیسیوں کو واپس لیا جائے گا۔بائیڈن صدر کے عہدے پر فائز ہونے کے کچھ ہی گھنٹوں بعد پچھلی انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات کو ختم کرنے کے لیے صدارتی حکم نامے جاری کریں گے۔ ایسا ایک پیغام میں دیکھا گیا ہے جو امریکی ذرائع ابلاغ میں گردش کر رہا ہے۔ چہارشنبہ کو بائیڈن کی تقریبِ حلف برداری سے قبل واشنگٹن ڈی سی کا اکثر حصہ لاک ڈاؤن میں ہوگا اور یہاں نیشنل گارڈ کے دستوں کی صورت میں ہزاروں جوان تعینات کیے جائیں گے۔کیپیٹل ہِل سے کئی میل دور بھی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور وہاں کنکریٹ اور دھات کی رکاوٹیں نصب ہیں۔ کیپیٹل ہِل وہی جگہ ہے جہاں چھ جنوری کو فسادات ہوئے تھے۔حلف برداری کی تقاریب کے دوران نیشنل مال، جہاں عام طور پر لوگوں کا رش ہوتا ہے، اسے بھی سیکرٹ سروس کی درخواست پر بند کر دیا گیا ہے۔ سیکرٹ سروس وہ ادارہ ہے جو امریکی صدور کی حفاظت کرتا ہے اور انھیں سکیورٹی فراہم کرتا ہے، چاہے وہ بعد میں عہدے سے ہٹ چکے ہوں۔اتوار کو امریکہ میں مظاہرے ہوسکتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر ٹرمپ کے حامیوں اور انتہائی دائیں بازوں کے گروہوں نے اس روز اپنی آن لائن کمیونٹی میں مسلح مظاہروں کی کال دے رکھی ہے۔تاہم کچھ مسلح گروہوں نے اپنے حامیوں سے ان مظاہروں میں نہ جانے کا کہا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پولیس نے یہ مظاہرے ایک منصوبے کے تحت رکھوائے ہیں تاکہ ان میں شمولیت کرنے والے لوگوں کو حراست میں لیا جاسکے۔ انھوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان مسلح مظاہروں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات ہوسکتے ہیں۔کیپیٹل پولیس نے اتوار کو بتایا کہ ورجینیا سے تعلق رکھنے والا ایک مسلح شخص جمعے کو سکیورٹی چیک پوسٹ سے گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کے پاس کم از کم ایک بندوق تھی جس میں گولیوں کے 509 راؤنڈز تھے اور یہ حکومت کی جاری کردہ شناخت نہیں رکھتا تھا۔
ویزلی ایلن بیلر نامی اس شخص کو بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ اس نے اخبار واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ وہ ہتھیار لے کر واشنگٹن جانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ وہاں ایک نجی سکیورٹی کمپنی میں کام کرتا ہے۔’میں گاؤں میں رہنے والا شخص ہوں اس لیے میں ڈی سی کے راستے میں گم ہو گیا تھا۔ چیک پوائنٹ پر روکا گیا تو میں نے گاڑی روک لی۔ میں نے انھیں وہ ایناگریشن بیج دکھایا جو مجھے دیا گیا تھا۔‘