روش کمار
ہندوستان اور امریکہ کے درمیان تجارتی معاہدہ کو لیکر اتفاق ہوگیا اور ہمارے ملک میں اس معاہدہ پر ’بھگت ‘ بہت زیادہ خوشیاں منارہے ہیں ۔ اب بی جے پی قائدین اور مودی جی کے بھگت خوشیاں منارہے ہیں اور اسے ایک بہت بڑی کامیابی کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ بہرحال کیایہ وہی معاملت یا Deal ہے جس کا انتظار ہندوستان کو تھا ؟ ہندوستان جھک گیا یا جھکا امریکہ بھی ! کون بتائے گا کہ کیا اس لئے گزشتہ ایک سال سے ہندوستان کوشش کررہا تھا ۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہندوستان نے اپنی شرائط پر امریکہ سے معاملت کی ہے۔ قومی مفادات کو ذہن میں رکھتے ہوئے معاملت کی ہے ۔ ہر جانکاری امریکہ کی طرف سے آرہی ہے ۔ 140 کروڑ سے زائد ہندوستانیوں کی طرف سے وزیراعظم نریندر مودی نے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا لیکن ایک ارب چالیس کروڑ ہندوستانیوں کو ٹرمپ بتارہے ہیں کہ اس Deal میں کیا ہے ۔ کیا ہندوستان جیسا ملک اس حال میں پہنچ گیا ہے کہ ہندوستان کے وزیراعظم اور وزراء نہیں بتارہے ہیں کہ کیا ڈیل ہوئی ہے اور امریکہ کے صدر اور اُن کے سکریٹری خارجہ بتارہی ہیں کہ کیا معاملت ہوئی ہیں۔
ہندوستان کے لوگوں کو ٹرمپ سے کہنا چاہئے کہ ہم اپنے وزیراعظم سے من کی بات سن لیں گے ۔ آپ ہر دن دو منٹ کا وقت نکال کر ہندوستان کے بارے میں خبریں دیدیجئے ۔ این ڈی اے کے ارکان پارلیمان ، وزیراعظم نریندر مودی کو مبارکباد دینے لگے ہیں۔ ملک کو ابھی پتہ نہیں لیکن مودی مودی ہونے لگا ۔ حکومت کی طرف سے پریس کانفرنس تک نہیں ہوئی لیکن مبارکباد کا ویڈیو آگیا ۔ خیرمقدم اور مبارکباد کے ویڈیو کو جانکاری کے طورپر پیش کیاجارہا ہے ۔ کسی شعبہ کے بارے میں کوئی تفصیلات باہر نہیں آرہی ہیں لیکن جشن شروع ہوچکا ہے ۔
اگر وزیراعظم نریندر مودی پھول کے ہار پہن سکتے ہیں تو ملک کو بتا کیوں نہیں سکتے کہ معاملت کی شرائط کیا ہیں تاکہ کسی کو شبہ نہ رہے کہ ہندوستان نے اپنے مفادات سے سمجھوتہ کیا ہے ۔ امریکہ میں رہنے والے ہندوستانیوں اور ہندوستان سے جاکر کبھی امریکہ میں بس جانے کا خواب دیکھنے والے ہندوستانیوں کیلئے بہت ضروری ہے کہ ہند ۔ امریکہ تعلقات خراب نہ ہوں ۔ اُمید ہے اس معاملت کااثر ویزا قواعد پر بھی پڑے گا اس لئے معاملت تو ہونی چاہئے لیکن کیایہ ڈیل اسی طرز پر ہوئی جس طرز پر حکومت عزت نفس اور قومی مفادات کے دم بھرتی ہے یا pragmatism کے نام پر معاملت کی تعریف ہوگی اور پرانے خطابات یا بیانات کو بھلادیا جائے گا ۔ کھیتی کو لیکر ہندوستان نے کیا ڈیل کی ہے اس کی جانکاری کب دی جائے گی۔ کھیتی کو لیکر ہی ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ٹھن گئی تھی ۔ کیا ہندوستان نے امریکہ کیلئے ہندوستان کی زراعت کا سیکٹر کھولدیا ہے ۔ ہندوستان کے کسان اور افزائش مویشیان میں مصروف لوگوں کا مستقبل کس طرح متاثر ہوگا؟
کیا وزیراعظم نریندر مودی کو دہلی میں دیا گیا اپنا خطاب یاد ہے جو انھوں نے گزشتہ سال اگست میں 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کے ایک ہفتہ بعد کیا تھا۔ مودی نے کچھ یوں کہا تھا ’’ہمارے لئے اپنے کسانوں کے مفادات سب سے زیادہ اہم ہیں ، ہندوستان اپنے کسانوں کے اور افزائش مویشیاں کرنے والوں اور ماہی گیر بھائی بہنوں کے مفادات کے ساتھ کچھ بھی سمجھوتہ نہیں کرے گا اور میں جانتا ہوں اور شخصی طورپر مجھے اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی لیکن میں اس کیلئے تیار ہوں‘‘ ۔ تو اب وزیراعظم نریندر مودی نے اس کی قیمت چکائی ہے یا اس ڈیل کیلئے ہندوستان کے کسان اور افزائش مویشیان کرنے والے شخصی قیمت چکائیں گے ۔ کیا ہندوستان کے کسانوں کو تفصیلات معلوم ہے کہ زرعی شعبہ میں کیا معاملت ہوئی اور اس سے ان کے مفادات متاثر ہوں گے یا نہیں ؟
ہندوستانی وقت کے مطابق 2 فبروری کی رات ساڑھے دس بجے ٹرمپ کی جانب سے معاملت کے اعلان کے بعد رات دیڑھ بجے ہندوستانی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان معاملت کا خیرمقدم کرتے ہوئے عام قسم کا بیان ٹوئیٹ کرتے ہیں جس میں کسانوں کو لیکر الگ سے کوئی بات نہیں کرتے ۔ کیا ہندوستانی کسان وزیر زراعت کے خیرمقدم کرنے سے خوش ہوجائے گا ۔ خیرمقدم کے علاوہ وزیراعظم کے پاس کیا کہنے کیلئے کچھ بھی نہیں تھا ؟
ہندوستانی وزیرزراعت کے ٹوئیٹ کے چند گھنٹوں بعد امریکی سکریٹری بروک رولینس نے ایک ٹوئیٹ کیا ، لکھا کہ صدر ٹرمپ کاشکریہ انھوں نے ایک بار پھر امریکی کسانوں کیلئے ڈیلیور کیا ہے ۔ ہندوستان اور امریکہ کی یہ معاملت امریکہ کے زرعی مصنوعات کو ہندوستان کے بڑے بازاروں تک پہنچائے گی ۔ داموں میں اضافہ ہوگا اور دیہی امریکہ میں پیسہ آئے گا ۔ 2024 ء میں ہندوستان کے ساتھ امریکہ کا 1.3 ارب ڈالر کا زرعی کاروباری خسارہ تھا ۔ ہندوستان کی بڑھتی آبادی امریکہ کی زرعی مصنوعات کیلئے اہم بازار ہے اور آج یہ ڈیل اس خسارہ کو کم کرنے میں اہم ثابت ہوگی ۔ یہ حقیقت میں دیکھا جائے تو American First کی جیت بھی ہے ۔
امریکہ کے وزیر زراعت اس معاملت کو امریکی کسانوں کی جیت بتارہی ہیں۔ کہہ رہی ہیں کہ امریکہ کے گاؤں میں پیسہ آئے گا تو ہندوستان کے وزیراعظم کب بتائیں گے کہ اس ڈیل سے ہندوستان کے گاؤں میں پیسہ آئے گا یا تباہی آئے گی ۔ اس ٹوئیٹ کے کئی گھنٹوں بعد شیوراج سنگھ چوہان کا کوئی ٹوئیٹ نہیں آتا جبکہ وہ ٹوئیٹر پر سرگرم ہیں اور اسی دوران لوگوں کو ان کی سالگرہ تقاریب پر مبارکباد دے رہے ہیں کیا وہ ان کیلئے اہم کام ہے ۔ اس معاملہ عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ ٹرمپ نے مودی کی کنپٹی پر کٹا لگاکر ہندوستان کے کروڑوں کسانوں کو موت کے کنویں میں ڈھکیل دیا۔
مودی نے امریکہ کے ساتھ تجارتی معاملت کرکے کسانوں کے پیٹ اور پیٹھ میں چھرا مارنے کا کام کیا ہے ۔ اب امریکہ کی زرعی مصنوعات ہندوستان میں سستا فروخت ہوں گی کیونکہ مودی نے امریکی زرعی مصنوعات پر ٹیکس زیرو کردیا۔ ملک کا کسان برباد ہوجائے گا ۔ اکھلیش یادو نے ٹوئیٹ کیا ہے کہ ہندوستان کے بازاروں کو امریکی زرعی مصنوعات اور کھاد کیلئے کھولدینا ہمارے ملک کی 70 فیصد اس آبادی کے ساتھ دھوکہ ہے جو زرعی شعبہ سے وابستہ ہے ۔
بھاجپائی اور اُن کے سنگھی ساتھی آزادی سے پہلے بھی غیرملکی طاقتوں کے ایجنٹ تھے ، آج بھی آتما نربھر تا اور سودیشی کی بات کرنے والے بھاجپائی اور اُن کے سنگھی ساتھی عوام کے درمیان جاکر بتائیں کہ انھوں نے ملک کی اقتصادی صورتحال کے ساتھ دھوکہ کرنے کیلئے کتنا کمیشن کھایا ہے۔لگتا ہے کہ حکومت سناٹے میں آگئی ہے ، کسی کو پتہ نہیں کہ کیاہوا ہے اور کچھ بولنا بھی ہے یا نہیں ۔ سب کچھ امریکہ سے بتایا جارہا ہے۔ ہندوستان میں صرف آئی ٹی سیل اور مودی کے حامی رقص کررہے ہیں کہ ڈیل ہوگئی ہے لیکن معاملت کس کی شرائط پر ہوئی، ڈیل کی معلومات ہندوستان نے ہندوستان کو کیوں نہیں دی ؟ ٹرمپ نے ہندوستان کو پہلے بتایا کہ ڈیل ہوئی ہے ۔ ٹرمپ ہی بتاتے ہیں کہ ہندوستان نے روس سے تیل خریدنا بند کردیا ۔ ٹرمپ ہی بتاتے ہیں کہ ہندوستان امریکہ اور آگے چلکر ونیزویلا سے تیل خریدے گا اور ٹرمپ ہی بتاتے ہیں کہ امریکہ کا ہندوستان پر 18 فیصد ٹیرف عائد رہے گا اور ہندوستان امریکہ پر زیروٹیرف لگائے گا ۔ کیا یہ کامیابی ہے ؟ 2 فبروری کو ٹرمپ اور مودی کے درمیان بات چیت کے بعد ٹرمپ نے ڈیل کا اعلان کیا ۔ وزیراعظم مودی نے صرف خیرمقدم کیا اور کہاکہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ میڈ اِن انڈیا پر 18 فیصد کا ٹیرف عائد ہوگا ۔ انھوں نے ایک ارب 40 کروڑ ہندوستانیوں کی طرف سے ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا لیکن کوئی اہم معلومات نہیں دی ۔
اب بات کرتے ہیں Jeffery Eipstein فائلز کی ۔ ان فائلز کو لیکر ایک سوال پیدا ہورہا ہے کہ کیا اس فائیل کے کسی بھی ای میل میں راہول گاندھی کا نام ہوتا ہے تو گودی میڈیا چپ رہ جاتا ؟ اس سوال کا جواب سب جانتے ہیں کہ گودی میڈیا چپ نہیں رہتا ۔ دن رات بحث مباحث کرکے گاؤں گاؤں تک یہ بات پھیلادیتا کہ امریکہ میں دولت مندوں اور بااثر لوگوں کے درمیان انسانی اسمگلنگ ، کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال کا نٹورک چلانے والے گھناؤنے مجرم جیفری ایپٹسین سے جڑے لاکھوں صفحات کی دستاویزات میں راہول گاندھی کا بھی نام ہے۔ صرف نام ہوتو اس پر یہ مسئلہ ہمارے ملک میں آگے لگا چکا ہوتا ۔ ویسے راہول گاندھی سے بھی یہ سوال ہونا چاہئے کہ انھوں نے Eipstein فائل پر کیوں کچھ نہیں کہا ۔ ان کی پارٹی کے میڈیا ترجمان نے تو کہا لیکن اپنے ٹوئیٹر ہینڈل پر راہول گاندھی نے وزیراعظم مودی سے اس بارے میں سوال نہیں کیا ہے کہ آپ کا نام ایپٹسین کے ای میل میں انیل امبانی کے ساتھ کیوں آیا جواب دیجئے ؟ کابینی وزیر بننے سے کچھ سال پہلے ہردیپ سنگھ پوری ایپٹسین سے 3 بار ملے ہیں جواب دیجئے ۔