امریکہ کے8500 فوجیوں کو ہائی الرٹ کی ہدایت

   

یوکرین پر روسی جارحیت کے اندیشے کے پیش نظر صدر بائیڈن کا اقدام

نیویارک : صدر جو بائیڈن کی ہدایت پر پینٹگان تقریباً 8 ہزار پانچ سو فوجیوں کو ’ ہائی الرٹ‘ پر رکھ رہا ہے جن کو ممکنہ طور پر یورپ میں تعیناتی کے لیے بھجوایا جا سکتا ہے۔ یہ اقدام اتحادیوں کے ساتھ یکجہتی کے لیے ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب یوکرین پر روس کی طرف سے فوجی جارحیت کا خطرہ ہے اور اس ضمن میں یورپی یونین جہاں روس کو’ پہلے کبھی نظر نہ آنے والی پابندیوں‘ سے متنبہ کر رہی تھی وہیں فوجی اتحاد نیٹو نے ایسی صورتحال میں دفاعی منصوبے کو آخری شکل دے دی ہے۔پنٹاگان کے پریس سیکیریٹری جان کربی نے کہا کہ امریکی فوجیوں کی یورپ میں تعیناتی کا فیصلہ کر لیا گیا ہے؛ تاہم اس پر عمل درآمد اسی صورت میں ہو گا جب نیٹو اتحادی ’ ریپیڈ رسپانس فورس‘ یعنی فوری جواب دینے والی فوج کو متحرک کرنے کا فیصلہ کریں گے۔ یا پھر ایسی صورت میں یہ فوجی یورپ بھجوائے جائیں گے جب یوکرین کی سرحد کے نزدیک روسی فوج کے اضافے سے متعلق کوئی نئی صورتحال جنم لیتی ہے۔جان کربی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام نیٹو اتحادیوں کے ساتھ ہمارے عزم کا اعادہ ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکی فوجیوں کو بھجوانے کا مقصد ازخود یوکرین کی سرحد پر تعیناتی نہیں ہے۔ترجمان نے بتایا کہ وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے صدر جو بائیڈن کو مشورہ دیا تھا کہ ساڑھے آٹھ ہزار فوجیوں کو ایسی صورت میں یورپ میں ممکنہ تعیناتی کے لیے تیار رکھا جائے جب یہ اشارے مل رہے ہیں کہ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن یوکرین پر فوجی دباو کم نہیں کر رہے ہیں۔کربی نے کہا کہ وہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں بتا سکتے کہ امریکہ کے اندر موجود کون سے یونٹس کو ہائی الرٹ پر رکھا جا رہا ہے۔