ریاض۔ 3 فبروری (ایجنسیز) امریکہ اور اسرائیل نے پیر کے روز بتایا کہ انہوں نے بحیرہ احمر میں مشترکہ بحری مشقیں کی ہیں، ان مشقوں کو معمول کی کارروائی قرار دیا گیا ہے۔اتوار کے روز ہونے والی یہ مشقیں واشنگٹن اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بیچ سامنے آئی ہیں۔ اس مشق میں امریکی گائیڈڈ میزائل شکن بحری جہاز ”ڈیلبرٹ ڈی بلیک” نے شرکت کی، جو بعد میں اسرائیل کے ساحلی شہر ایلات پہنچ گیا۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فورسز کی یہ تعیناتی دونوں ممالک کی بری اور بحری افواج کے درمیان ”قریبی تعاون” کی توثیق کرتی ہے۔ اسرائیلی جانب سے اس مشق میں جنگی جہاز ”آئی این ایس ایلات” نے حصہ لیا۔واضح رہے کہ مشقوں کے بعد اسرائیلی بندرگاہ سے روانہ ہونے والا تباہ کن بحری جہاز ”ڈیلبرٹ ڈی بلیک” فضائی، بحری اور آبدوز شکن دفاع کے ساتھ ساتھ زمینی اہداف پر درست نشانہ لگانے کی صلاحیت سے لیس ہے۔حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں شدت آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایرانی قیادت کو بارہا فوجی حملوں کی دھمکی دی ہے۔ اس کے جواب میں ایران نے دھمکی دی ہے کہ حملے کی صورت میں اسرائیل اور امریکہ پر جوابی حملے کیے جائیں گے۔تاہم پیر کے روز سامنے آنے والی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ان تنازعات کو کم کرنے کے مقصد سے مذاکرات کیلئے امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔