امریکہ، ہندوستان کیساتھ مضبوط ترین تعلقات کا خواہاں

   

لاک ڈاؤن پر مودی کے یکطرفہ فیصلہ سے خوف کا ماحول ۔ راہول گاندھی کا امریکی ڈپلومیٹ برنس سے اظہار خیال

نئی دہلی12جون (سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان اور امریکہ دنیا کے دو سب سے بڑی جمہوریت ہیں اور دونوں کے خیرسگالانہ ڈی این اے بھی ایک جیسا ہے اور شاید اسی لیے امریکہ کے سیاسی جماعتوں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کے درمیان باہمی اختلاف کے باوجودہندوستان سے تعلقات کو لے کر دونوں میں گہری رضامندی ہے ۔ان خیالات کا اظہار امریکی سفارت کار اور ہاورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر نکولس برنس نے جمعہ کو کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی کے ساتھ بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کی سیاسی پارٹیاں ڈیموکریٹس اور ریپبلکن کے درمیان بہت کم اتفاق ہے لیکن انہیں لگتا ہے کہ جب ہندوستان کا سوال آتا ہے تو دونوں سیاسی پارٹیاں چاہتی ہیں کہ ہندوستان کے ساتھ امریکہ کے بہت قریبی اور تعاون پر مبنی تعلقات ہونے چاہئے ۔ انہوں نے اس سلسلے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کو معلوم ہے کہ ہمارے سامنے آنے والے چیلنجوں میں سے ایک جابر ممالک کی طاقت ہے ۔ میں نے چین اور روس کا ذکر کیا ہے ۔ ہم کبھی بھی لڑنا نہیں چاہتے ، ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن ہم رہنے کے طریقوں اور دنیا میں اپنی پوزیشن کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو‘میں’ ہمارے بارے میں بہت سوچتا ہوں، مجھے لگتا ہے کہ ہمارے دونوں ممالک کے درمیان تعلق اس لحاظ سے بہت اہم ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے فوجی تعلقات بہت مضبوط ہیں۔ خلیج بنگال اور پورے بحر ہند علاقے میں امریکی۔ ہندوستانی بحریہ اور فضائیہ کے باہمی تعاون کو دیکھیں تو صاف نظر آتا ہے کہ دونوں ایک ساتھ ہیں اور یہ دیکھ کر انہیں لگتا ہے کہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے لئے دروازے کھلے رکھنے چاہئے

اور دونوں ممالک کے درمیان لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی کم کرنی چاہیے ۔برنس نے کہا کہ بہت سارے طالب علم اور ہائی ٹیک تکنک والے ہندوستانی کاروباری ایچ -1 بی ویزا پر امریکہ آتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں اس تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے جبکہ امریکہ کو پتہ ہے کہ اس کی معیشت کو چلانے کے لئے اس کے پاس کافی انجینئر نہیں ہیں اور ہندوستان ان انجینئرز کی فراہمی کر سکتا ہے ۔ ان سب حالات کو دیکھتے ہوئے لوگوں کی نقل و حرکت، یونیورسٹی کے تبادلے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہئے ۔اس موقع پر کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے مودی حکومت پر یکطرفہ فیصلہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاؤن بھی اسی طرح سخت فیصلہ تھا جس نے لوگوں کی ذہنیت تبدیل کی جس سے خوف کا ماحول پیدا ہوا۔ گاندھی نے امریکی ڈپلومیٹ اور ہارورڈ یونیورسٹی میں بین الاقوامی امور کے پروفیسر نکولس برنس سے بات چیت میں کہا کہ مودی حکومت نے جس طرح سے لاک ڈاؤن نافذ کیا، اس کے سبب لوگوں کی ذہبیت میں تبدیلی آئی اور کافی ڈر کا ماحول پیدا ہوا ہے ۔ یہ وائرس بہت خطرناک ہے اور وائرس کے ساتھ ہی اس ڈر کو بھی آہستہ آہستہ دور کیا جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا’’ڈر کا یہی اثر کچھ دنوں پہلے میں ہندوستان کے ایک بڑے کاروباری میں دیکھا‘‘۔ بات چین میں انہوں نے بتایا کہ ان کے دوستوں نے مجھ سے بات کرنے کے لئے انہیں منع کیا اور کہا کہ مجھ سے بات کرنا ان کے لئے نقصان دہ ہوگا۔اس کا مطلب ڈر کا ماحول تو ہے ۔ آپ یکطرفہ فیصلہ لیتے ہیں، دنیا میں سب سے بڑا اور سخت لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہیں۔ آپ کے پاس لاکھوں دہاڑی مزدور ہیں جو ہزاروں کلو میٹر پیدل چل کر واپس گئے ہیں۔ تو یہ یکطرفہ قیادت ہے جہاں آپ آتے ہیں، کچھ کرتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ یہ بات تباہ کن ہے ۔ یہ ہر جگہ ہے اور ہم اس سے نبرد آزما ہیں‘‘۔