امریکی اتحاد میں عرب ممالک شامل ہونا نہیں چاہتے

   

نیویارک : حوثی اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کے ذریعہ مسلم اور عرب دنیا کواپنے فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے کا پیغام دے رہے ہیں اور ایسے میں کوئی بھی بڑی عرب طاقت کھل کر حوثیوں کے خلاف اتحاد میں شامل نہیں ہونا چاہتی۔ امریکہ نے جب اس ہفتہ کے شروع میں بحیرہ احمر میں سفر کرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کیلئے ایک کثیر الملکی بحری فوجی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تو ابتدائی طور پر کہا گیا کہ اس اتحاد میں 10 ممالک حصہ لیں گے۔ اس پیشرفت کے فورآ بعد ہی سوالات اٹھے کہ اس اتحاد میں عرب بحری طاقتوں میں سے کچھ بڑی طاقتیں کیوں شامل نہیں۔ نومبر کے وسط سے یمن میں حوثی باغی ملیشیا آبنائے باب المندب سے گزرنے والے بحری جہازوں کو ہراساں کرنے کیلئے راکٹ داغ رہے ہیں اور ڈرون حملے کر رہے ہیں۔ ایک سینئر حوثی اہلکار نے سوشل میڈیا پر کہا کہ سلسلہ اس وقت تک نہیں رکے گا، جب تک غزہ میںنسل کشی کے جرائم بند نہیں ہوتے اور خوراک، ادویات اور ایندھن کو غزہ کی محصور آبادی میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔

غزہ میں اقوامِ متحدہ کے بھی 136 ارکان مارے گئے:گوٹیرس
نیویارک : اقوامِ متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ غزہ میں صرف 75 روز میں اقوامِ متحدہ کے 136 ارکان مارے گئے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوٹیرس نے کہا ہے کہ یو این کی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا، غزہ میں بہت سے اسٹاف ارکان کو گھروں سے جبری انخلاء پر مجبور کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں شہریوں کیلئے اپنی جان خطرہ میں ڈالنے والے ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق غزہ پر 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی بمباری میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز ہو چکی ہے جبکہ 52 ہزار 586 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شہید اور زخمی ہونے والے افراد میں نصف سے زائد تعداد صرف بچوں اور خواتین پر مشتمل ہے جبکہ اسرائیلی وحشیانہ کارروائیوں میں لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔