ترکی کی مخالفت مسترد
واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن نے سلطنت عثمانیہ کی افواج کے ہاتھوں آرمینیائی قوم کے 1915افراد کے منظم قتل عام کو نسل کشی قرار دے دیا۔غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق جو بائیڈن وہ پہلے امریکی صدر بن گئے جنہوں نے برسی کے موقع پر ایک روایتی بیان میں نسل کشی کا لفظ استعمال کیا۔اس سے ایک روز قبل انہوں نے ناٹواتحادی کی جانب سے متوقع غصے کو محدود کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ترک صدر رجب طیب اردغان کو یہ قدم اٹھانے کے بارے میں بتایا تھا۔جوبائیڈن کا کہنا تھا کہ ‘ہم ان تمام کی زندگیوں کو یاد رکھتے ہیں جو دورِ عثمانیہ میں آرمینیائی نسل کشی کے دوران ہلاک ہوئے اور اور اس طرح کے مظالم کو دوبارہ ہونے سے روکنے کے لیے اپنے آپ سے دوبارہ وعدہ کرتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اور ہم یاد رکھیں گے تاکہ اس کی تمام صورتوں میں نفرت کے مضر اثر کے خلاف ہمیشہ چوکس رہیں۔ یہ بیان آرمینیا اور اس کے تارکین وطن کے لیے ایک بہت بڑی فتح ہے۔1965 میں یوراگوئے سے آغاز کے بعد فرانس، جرمنی، کینیڈا اور روس نسل کشی کو تسلیم کرچکے تھے لیکن امریکی بیان زیادہ اہمیت والا تھا۔جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ اس بیان کا مقصد ‘الزام عائد کرنا نہیں بلکہ اس بات کی یقین دہانی کرنا ہے کہ جو ہوگیا وہ دوبارہ کبھی نہیں دہرایا جائے گا’۔دوسری جانب ترکی نے امریکی صدر کی جانب سے آرمینیائی نسل کشی کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا اور الزام عائد کیا کہ امریکہ تاریخ کو دوبارہ تحریر کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ترک صد نے ایک پیغام میں لکھا کہ ‘ان بحثوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا جو تاریخ دانوں کو کرنی چاہیے لیکن تیسرے فریقین اسے سیاسی رنگ دے کر ہمارے ملک میں مداخلت کا آلہ کار بن رہے ہیں’۔
