واشنگٹن ؍ ابوظہبی ۔ 30 جنوری (ایجنسیز) ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے دوران جدید ترین F-35 لڑاکا طیارے پرتگال پہنچ چکے ہیں، جو جلد ہی مشرق وسطیٰ پہنچ جائیں گے۔ یہ وہی طیارے ہیں جنہوں نے وینزویلا کے صدر کی گرفتاری کے آپریشن میں حصہ لیا تھا۔ ذرائع کے مطابق یہ نقل و حرکت ایران پر ممکنہ حملوں کی تیاریوں کا حصہ ہے۔اسرائیلی فوجی انٹیلی جنس کے سربراہ شلومی بینڈر نے واشنگٹن میں حملے کے منصوبوں پر تبادلہ خیال کیا ہے، جبکہ امریکہ اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایرانی اہداف کی فہرست تیار کر لی ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام کا اندازہ ہے کہ تہران کا جوابی ردِ عمل انتہائی شدید ہوگا۔ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگزیتھ کا کہنا ہے کہ اگرچہ ایران کے پاس اب بھی معاہدے کا موقع ہے، لیکن واشنگٹن تمام عسکری آپشنز کیلئے تیار ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کسی بھی فیصلے پر فوری عمل کیا جائے گا۔ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جبکہ امریکی فوجی اڈے پہلے ہی ایرانی میزائلوں کی زد میں ہیں۔ ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے بھی اپنی قوت بڑھانے کیلئے ایک ہزار ااسٹریٹجک ڈرونز کو بیڑے میں شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔روئٹرز کے مطابق ڈونالڈ ٹرمپ ایران میں “نظام کی تبدیلی” کیلئے حالات سازگار بنانے کے خواہاں ہیں اور وہ ان رہنماؤں کو نشانہ بنانے پر غور کر رہے ہیں جو مظاہرین پر تشدد کے ذمہ دار ہیں۔
اس کے علاوہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور ایٹمی تنصیبات پر بڑے حملے بھی زیرِ غور ہیں۔ دوسری طرف تہران نے واضح کر دیا ہے کہ کسی بھی حملے کی صورت میں بے مثال اور طاقتور جوابی کارروائی کی جائے گی۔