یوروپی یونین اور امریکی پابندیوں کا سامنا ، مذاکرات کے لیے اردغان کا زور
واشنگٹن :۔ جمعہ کے روز امریکی کانگریس نے محکمہ دفاع کا بجٹ بل منظور کیا جس میں ترکی کے خلاف روسی ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر پابندیوں کی منظوری کی ایک شق بھی شامل ہے ۔ سینیٹ نے دفاعی بجٹ ایکٹ کی منظوری دی جس میں روس اور ترکی کے خلاف پابندیاں بھی شامل ہیں ۔ جمعہ کے روز سینیٹ کے دو تہائی سے زیادہ ارکان نے 740 بلین ڈالر کے بجٹ کے حق میں ووٹ دیا جس پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مخالفت کی تھی اور اس کو ویٹو دینے کی دھمکی دی تھی ۔ امریکی ایوان نمائندگان نے گذشتہ منگل کو اس بل کی منظوری دی تھی جس میں صدارتی ویٹو کو بھی ناکام بنانے کے لیے کافی ووٹ ملے تھے ۔ چار ذرائع نے جمعرات کے روز اس معاملے سے واقف دو امریکی عہدیداروں سمیت تصدیق کی کہ امریکہ گذشتہ سال روسی ایس 400 فضائی دفاعی نظام کی خریداری پر ترکی پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ موجودہ صدر نے ترکی کی ناراضی سے بچنے کے لیے انقرہ پر پابندیوں سے گریز کیا تاہم نو منتخب صدر جو بائیڈن کی زیر قیادت آئندہ امریکی انتظامیہ ترکی کے معاملے میں زیادہ سختی کا مظاہرہ کرے گی ۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پابندیوں سے ترکی کی دفاعی صنعت ، انتظامیہ اور اس کے سربراہ اسماعیل دمیر کو نشانہ بنایا جائے گا ۔ دوسری جانب ایک سینئیر ترک عہدیدار نے کہا کہ روسی ایس 400 میزائل دفاعی نظام کی خریداری پر ترکی پر امریکی پابندیوں سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات کو نقصان پہنچے گا ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ترکی نیٹو کے رکن ہیں اور ایک دکن ملک دوسرے پر کیسے پابندیاں عائد کرسکتا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پابندیوں کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوگا ۔ ترکی پر پابندیاں تعمیری سوچ نہیں ۔ ان سے دونوں ملکوں کے تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ اسی دوران صدر ترکی رجب طیب اردغان نے یوروپی یونین اور امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے اندیشہ کے تحت مذاکرات کے لیے زور دیا ہے ۔ انہوں نے یوروپی یونین کے ساتھ منادی کرنے اور باہمی مسائل کی مذاکرات کے ذریعہ یکسوئی کی خواہش ظاہر کی ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پابندیوں سے تمام شعبوں پر اثر پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ معاشی پابندیاں تمام فریقوں کے لیے نقصان دہ ہوں گی ۔ واضح رہے کہ سمندری علاقے پر یوروپی یونین کے رکن ممالک یونان اور قبرص ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں ۔۔