امپائرس کال، جس کی وجہ سے پاکستان جیت نہ سکا؟

   

نئی دہلی: جاریہ ورلڈ کپ میں پاکستان جمعہ کو جنوبی افریقہ کے خلاف سخت جدوجہد کے بعد ایک وکٹ سے ناکام رہا۔ اس شکست نے پاکستانی ٹیم کو ورلڈ کپ سے اخراج کے قریب پہنچا دیا۔ اس میچ میں ’’امپائرس کال‘‘ والے فیصلہ پر کافی تنازعہ ہواہے۔ ہربھجن سنگھ کا کہنا ہے کہ پاکستان یہ میچ امپائرس کال کی وجہ سے ہارا ہے۔ ’’امپائرس کال‘‘ کرکٹ میں ڈی آر ایس (Decision Review System)کا حصہ ہے۔ جب کوئی بیاٹر فیلڈ امپائر کے فیصلے پر مطمئن نہیں ہوتا ہے تو وہ اس کے خلاف ریویو لیتا ہے یعنی فیصلہ کو تھرڈ امپائر سے رجوع کیا جاتا ہے۔ پھر ایل بی ڈبلیو کی صورت میں ٹی وی امپائر ری پلے اور بال ٹریکنگ کے ذریعے نتیجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ موجودہ قوانین کے مطابق اگر امپائر کے ناٹ آؤٹ فیصلہ کو چیلنج کیا جاتا ہے تو بیاٹر کو ریویو پر ایل بی ڈبلیو قرار دینے کیلئے گیند کا کم از کم 50 فیصد حصہ تین اسٹمپ میں سے کسی ایک سے ٹکرانا چاہئے۔ اگر گیند
اور اسٹمپ کے درمیان ٹکرانے کا فاصلہ بہت کم ہو یا اس میں کوئی شک ہو تو تھرڈ امپائر اسے ’’امپائرس کال‘‘ کہتا ہے۔ یعنی گراؤنڈ امپائر کا فیصلہ حتمی سمجھا جاتا ہے۔ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے میچ میں تبریز شمسی کے معاملہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ حارث رؤف کی گیند اُن کے پیڈ سے ٹکرائی۔ اپیل پر امپائر نے آؤٹ نہیں دیا۔ پاکستان نے ریویو لیا۔ بال ٹریکنگ میں نظر آیا کہ گیند لیگ اسٹمپ سے ٹکرا رہی تھی، یعنی شمسی آؤٹ تھے، لیکن 50 فیصد کے اُصول نے کام کیا۔ امپائرس کال کی وجہ سے شمسی کو ناٹ آؤٹ رہے۔ آئی سی سی کا کہنا ہے کہ امپائرس کال ڈی آر ایس کا حصہ ہے، جس میں کئی مواقع پر آن فیلڈ امپائرز کا فیصلہ درست ہوگا۔ بال ٹریکنگ ٹکنالوجی کے ذریعہ پتہ لگایا جائے گا کہ گیند امپاکٹ میں ہے یا پھر وکٹ زون میں۔