امکانی نتائج سے کانگریس خوفزدہ، رائے دہندوں کو دھمکانے کا الزام

   

الیکشن کمیشن سے کانگریس امیدوار کے خلاف کارروائی کا مطالبہ: کے ٹی آر
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اکتوبر (سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی آر نے جوبلی ہلز کے رائے دہندوں کو ڈرانے دھمکانے کا کانگریس کے امیدوار نوین یادو پر الزام عائد کیا اور عوام سے اپیل کی کہ شہر اور حلقہ جوبلی ہلز میں امن و امان کیلئے روڈی شیٹر کا پس منظر رکھنے والے کانگریس کے امیدوار کو شکست دیں۔ آج تلنگانہ بھون میں دن بھر کے ٹی آر نے مختلف سماجی ، رضاکارنہ اور طبقاتی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کی ۔ منور کاپو طبقہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی نے روڈی شیٹر کا پس منظر رکھنے والے قائد کو امیدوار بنایا ہے۔ اسمبلی حلقہ جوبلی ہلز میں بی آر ایس کی لہر چل رہی ہے جس سے حکمراں کانگریس پارٹی بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور پا رٹی کے امیدوار نوین یادو رائے دہندوں کو ڈرانے دھمکانے کی کوشش کر رہے ہیں جس کی بی آر ایس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے اور الیکشن کمیشن سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ضمنی انتخاب کو پرامن اور شفاف بنانے کیلئے بڑے پیمانہ پر سیکوریٹی انتظامات کریں۔ رائے دہندوں کو دھمکیاں دینے والے کانگریس امیدوار کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ کے ٹی آر نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کانگریس کی جانب سے دیئے جانے والے پیسے لے لیں مگر ووٹ بی آر ایس کو دیں۔ اگر اس مرتبہ کانگریس کو شکست نہیں دی گئی تو حکومت اور چیف منسٹر یہی سمجھیں گے کہ عوام حکومت کی کارکردگی سے مطمئن ہے جبکہ کانگریس کو شکست دیتے ہوئے عوام حکومت کے سامنے اپنی ناراضگی کا اظہار کریں۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ نے کہا کہ کانگریس حکومت نے مسلمانوں ، ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ، خواتین اور ضعیف افراد کیلئے جو بھی وعدے کئے تھے، ان میں کوئی بھی وعدہ کو پورا نہیں کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی خواتین کو کروڑ پتی بنانے کا دعویٰ کر رہے ہیں مگر خواتین کو ماہانہ 2500 دینے کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں کیا ہے۔ شوہر کے انتقال پر آنسو بہانے والی سنیتا کا ریاستی وزراء نے مذاق اڑایا ہے۔ ان کے خاندان میں بھی اگر کوئی مرجاتے ہیں تو کیا ان کی بیویاں آنسو نہیں بہائیں گی، اس کا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ عوامی تائید سے محروم ہونے والی کانگریس پارٹی فرضی ووٹوں کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس کا انہوں نے ہفتہ دس دن قبل ہی پردہ فاش کیا تھا لیکن الیکشن کمیشن نے اس پر کوئی کارروائی کی اور نہ ہی حکومت نے کوئی ردعمل کا اظہار کیا۔ کانگریس پارٹی بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے معاملہ میں دھوکہ دے رہی ہے اور سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے بی سی طبقات کو گمراہ کیا جارہا ہے ۔ لہذا وہ سماج کے تمام طبقات سے اپیل کرتے ہیں کہ کانگریس کو شکست دے کر بی آر ایس کی امیدوار سنیتا کو بھاری اکثریت سے کامیاب کریں۔2