امکانی کامیابی والے مسلم امیدواروں پر مسلمانوں کی نظر

   

اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی بڑھانے کی کوشش ، مزید مسلمانوں کو ٹکٹ کا امکان
حیدرآباد۔25۔اکٹوبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مسلمان مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے فراہم کئے جانے والے ٹکٹ اور امکانی طور پر کامیاب ہونے والے مسلم امیدواروں کا مشاہدہ کرتے ہوئے اس جماعت کی تائید کریں گے تاکہ تلنگانہ قانو ن ساز اسمبلی میں مسلمانوں کی نمائندگی میں اضافہ ہوسکے۔ بھارت راشٹرسمیتی نے ریاست تلنگانہ میں 117 امیدواروں کا اعلان کردیا ہے لیکن ان میں محض 3 مسلم امیدوار میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیاگیاہے جن میں ایک موجودہ رکن اسمبلی بودھن عامر شکیل کے علاوہ حلقہ چارمینار سے صلاح الدین لودھی اور حلقہ اسمبلی بہادرپورہ سے میر عنایت علی باقری کو ٹکٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ اب مزید کسی مسلم امیدوار کو بی آر ایس کی جانب سے میدان میں اتارے جانے کا کوئی امکا ن نہیں ہے۔ کانگریس نے تلنگانہ میں اپنے امیدواروں کی پہلی فہرست جاری کردی ہے جو کہ 55 امیدواروں پر مشتمل تھی اور ان 55 امیدواروں میں کانگریس پارٹی نے 3 مسلم امیدواروں کے نام جاری کئے جن میں حلقہ اسمبلی ملک پیٹ سے شیخ اکبر‘ حلقہ اسمبلی کاروان سے عثمان بن محمد الہاجری ‘ حلقہ اسمبلی نامپلی سے فیروز خان کے نام شامل کئے گئے ہیں اس کے علاوہ آئندہ فہرست میں مزید 3 تا5 مسلم امیدواروں کے نام شامل کئے جانے کی توقع ہے اور کہا جا رہاہے کہ کانگریس کی مجموعی فہرست میں 6تا8مسلم امیدوار شامل ہوسکتے ہیں۔ تشکیل تلنگانہ کے بعد برسر اقتدار سیاسی جماعت کی جانب سے ایوانوں میں مسلم نمائندگی کم کرنے کی جو حکمت عملی اختیار کی گئی اس حکمت عملی کو اضلاع میں مخالف مسلم نظریہ کے طور پر دیکھا جا رہاہے کیونکہ بھارت راشٹرسمیتی نے ریاست میں مسلم ارکان اسمبلی کی تعداد میں ریکارڈ کی جانے والی نمایاں کمی کے بعد ریاستی قانون ساز کونسل میں مسلم نمائندگی میں اضافہ کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن تلنگانہ قانون ساز کونسل میں بھی بی آر ایس کے مسلم ارکان قانون ساز کونسل کی تعداد میں بھاری گراوٹ لائی گئی اور اب محض ایک رکن قانون ساز کونسل بی آر ایس میں مسلم ہے جبکہ کانگریس کے پاس رکن قانون ساز کونسل منتخب کروانے کی تعداد موجود نہیں تھی ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل اور اسمبلی میں مسلم نمائندگی میں ریکارڈ کی جانے والی گراوٹ مسلمانوں کے لئے لمحہ فکر ہے ۔ تلنگانہ کے اضلاع کے مسلمانو ںکا کہناہے کہ اگر یہی صورتحال رہتی ہے تو اضلاع کے مسلمانوں کا انحصار شہر سے تعلق رکھنے والے مسلم ارکان اسمبلی پر ہوتا چلا جائے گا اور شہر سے تعلق رکھنے والے مسلم ارکان اسمبلی کا برسر اقتدار جماعت سے بہتر تعلق ہونے کے سبب ان کے مسائل کو نہ ایوان میں پیش کیا جائے گا اور نہ ہی ان کے مسائل کو حل کرنے کے سلسلہ میں اقدامات کئے جائیں گے۔ تلنگانہ اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کے مسائل اور ان کی نمائندگی کے موضوع پر اختیار کردہ برسراقتدار جماعت کے موقف سے ضلعی مسلمانوں میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے اور کہا جار ہاہے بھارت راشٹرسمیتی نے حلقہ اسمبلی بودھن سے عامر شکیل کو اس لئے ٹکٹ دیا ہے کیونکہ وہ سابق میں اس حلقہ سے کامیاب ہوئے ہیں جبکہ حلقہ اسمبلی چارمینار اور بہادرپورہ سے جو ٹکٹ دینے کے اعلان کئے گئے ہیں وہ محض خانہ پری کیلئے کئے گئے ہیں اسی لئے بی آر ایس نے ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی مسلمانوں کو مایوس کیا ہے جبکہ انتخابات کے اعلان سے قبل رکن قانون ساز کونسل کی مخلوعہ نشستوں پر ایک مسلم رکن قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین کی معیاد مکمل ہونے کے بعد نہ اس میں توسیع دی گئی اور نہ ہی ان کی جگہ کسی مسلم قائد کو موقع دیا گیا بلکہ مسلمانوں کو پوری طرح سے نظرانداز کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے دیگر طبقات کی نمائندگی میں اضافہ کے اقدامات کئے گئے ۔