امیت شاہ کے ریمارکس پر نظام کے خاندان کا اعتراض

   

حیدرآباد :۔ حیدرآباد کے ساتویں نظام میر عثمان علی خاں کے ارکان خاندان نے مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے اس بیان پر سخت اعتراض کیا جس میں انہوں نے حیدرآباد کے کلچر کو نظام کلچر قرار دیا ہے اور سیاسی قائدین سے کہا کہ وہ سیاسی مفادات کے لیے نظام کے بارے میں حقائق کو مسخ کرنا بند کریں ۔ نظام ہفتم کے پوتے نجف علی خاں نے کہا کہ جب بھی انتخابات منعقد ہوتے ہیں سیاست دانوں کی جانب سے دانستہ طور پر عمداً نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے امیج کو داغ دار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کہا کہ منفی پروپگنڈہ کرنا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایک گھٹیا کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ حیدرآباد کے نام کو تبدیل کرنے یا ریاست کو نظام کلچر سے آزاد کرانے کی باتیں ایک دھوکہ اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ لیکن اس طرح کی باتیں کرنے والے یہ سیاست داں گنگا جمنی تہذیب کو بدل نہیں سکتے جو صدیوں سے حیدرآباد کے عوام کے کلچر کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نظام تمام مذاہب کا احترام کرتے تھے اور ان کے دور حکومت میں ان میں اتحاد پیدا کیا تھا اور ان کے دور میں امن و سکون تھا اور ان کی حکومت سیکولرازم کے لیے جانی جاتی تھی ۔ نجف علی خاں نے کہا کہ 1940 میں نظام کے دور حکومت میں حیدرآباد کی حالت زیادہ تر مغربی ممالک کی حالت سے بہتر تھی ۔ انہوں نے جو بڑے اور گرانقدر عطیات دئیے ہیں وہ بے مثال ہیں کسی اور حکمران نے ایسے عطیات نہیں دئیے ۔ اپنے ذاتی جیب سے نمس ہاسپٹل تعمیر کروانے والے حکمران کو ایک ’ لٹیرا ‘ کہنا یہ عثمان علی خاں کی بے ادبی کرنا اور ان کے امیج کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی ہے ۔ نظام کے نام کو دھبہ لگانے کی کوشش کرنے والوں سے انہوں نے پوچھا کہ خود انہوں نے ملک کے لیے کیا کیا ہے ۔ نجف علی خاں نے کہا کہ نظام نے نیشنل ڈیفنس فنڈ میں پانچ ٹن سونا عطیہ دیا تھا ۔ تمام ذاتوں اور کمیونٹیز کو دئیے گئے ان کے گرانقدر عطیات سے ان کے سیکولر امیج کی تصدیق ہوتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سیاست کے معیارات میں انحطاط آگیا ہے کیوں کہ کئی سیاست دانوں کو خود ان کے ملک کی تاریح معلوم نہیں ہے ۔ امیت شاہ نے اتوار کو یہاں ایک جلسہ عام میں کہا تھا کہ جی ایچ ایم سی انتخابات میں اگر بی جے پی کو کامیابی ملے تو وہ حیدرآباد میں ’ نظام کلچر ‘ کا خاتمہ کرے گی ۔۔