اناؤ سانحہ: سی بی آئی کی بڑی کاروائی، چار شہروں میں چھاپہ ماری

   

اناؤ:4 اگست(سیاست ڈاٹ کام) سڑک حادثے میں شدید طور سے زخمی اناؤ ریپ کیس کی متأثرہ کے معاملے میں مرکزی جانچ ایجنسی سی بی آئی نے اتوار کو اترپردیش کے چار شہروں میں تقریبا 17 مقامات پر چھاپہ ماری کر کے شواہد اکٹھا کئے ۔باوثوق ذرائع کے مطابق سی بی آئی کے افسران نے بدایوں،اناؤ، لکھنؤ اور فتح پور میں تقریبا 17 ٹھکانوں پر ایک ساتھ چھاپہ ماری کی اس سے قبل سیتا پور جیل میں بند عصمت دری کے ملزم کلدیپ سنگھ سینگر سے سی بی آئی کے افسران نے چہارشنبہ کو پوچھ گچھ کی تھی۔ذرائع نے بتایا کہ سی بی آئی کی ایک ٹیم نے عصمت دری متأثرہ کے گاؤں ماکھی کا آج ایک بار پھر دورہ کیا اور مقامی افراد سے کچھ معلومات حاصل کیں۔ سی بی آئی افسران نے ماکھی تھانے میں ایک بار پھر دستاویزات کو کھنگالا اور پولیس اہلکار وں سے پوچھ گچھ کی۔
جانچ افسران نے متأثرہ کے وکیل کے گھر کے آس پاس کے لوگوں سے بھی ملاقات کی۔ افسران نے ملزم رکن اسمبلی کے مکان اور دفتر میں بھی چھاپہ ماری کی اور اہم شواہد اکٹھا کئے ۔سیتاپور سے موصول اطلاع کے مطابق سی بی آئی کی ایک ٹیم آج پھر سیتا پور جیل جاسکتی ہے ۔ سی بی آئی نے جیل انتظامیہ سے رکن اسمبلی سے ملاقات کرنے کے لئے جیل آنے والے افراد کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اس سے پہلے سنیچر کو ٹیم نے اس سلسلے میں ملاقاتیوں کا رجسٹر اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ فتح پور اورباندہ میں ٹکر مارنے والے ٹرک کے مالک کے گھر اور دفتر میں سی بی آئی کے افسر جانچ کررہے ہیں۔ ٹیم نے موقع سے کئی اہم دستاویزوں کو اپنے قبضے میں لیا ہے ۔ سی بی آئی کی ایک ٹیم باندہ میں ٹرک ڈرائیور موہن شریواستو کے گھر پہنچی اور ا ن کے والدین سے بات چیت کی۔ انہوں نے ڈرائیور کے کمرے کا بھی معائنہ کیا اور کچھ شواہد جمع کیے ۔ تقریبا دو گھنٹے گذارنے کے بعد افسران وہاں سے روانہ ہوئے ۔ قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 28 جولائی کو رائے بریلی کے گرو بخش گنج علاقے میں ایک تیز رفتار ٹرک نے اناؤ ریپ کیس متأثرہ کی کار کو ٹکر مار تھی جس میں متأثرہ اور اس کے وکیل شدید طور سے زخمی ہوگئے تھے جبکہ دیگر افراد کی موت ہوگئی تھی۔متأثرہ اور وکیل کا علاج کنگ جارج میڈیکل یونیورسٹی(کے جی ایم یو) میں علاج چل رہا ہے ۔ جہاں ان کی حالت ہنوز نازک ہے ۔