دہلی میں 45 یوم میں سماعت مکمل کی جائے :سپریم کورٹ ،متاثرہ فیملی کو 25 لاکھ روپئے کا معاوضہ
نئی دہلی۔ یکم اگست (سیاست ڈاٹ کام) اناؤ ریپ کیس کی متاثرہ فیملی نے انصاف کے حصول کیلئے گزشتہ ایک سال کے دوران اعلیٰ حکومتی عہدیداروں ، سیاست دانوں اور پولیس افسروں کو 36 خطوط لکھے تھے، یہاں تک کہ متاثرہ فیملی کے بعض ارکان سڑک حادثہ میں ہلاک ہوگئے۔ بتایا جاتا ہے کہ اصل نشانہ متاثرہ لڑکی ہی تھی جو زخمی ہوئی اور اب کنگ جارجس میڈیکل یونیورسٹی کے ٹراما سنٹر میں زیرعلاج ہے ۔ لڑکی کے رشتہ داروں نے ان خطوط میں اپنی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے حفاظتی اقدامات کی درخواست کی تھی۔ یہ انکشافات اس فیملی کی جانب سے چیف جسٹس آف انڈیا رنجن گوگوئی کو بھی خط لکھے جانے کے فوری بعد سامنے آیا ہے۔ اس انکشاف پر ہی سی جے آئی نے اس معاملے کی سماعت شروع کی اور سپریم کورٹ نے اناؤ آبروریزی معاملے سے جڑے سبھی معاملے دہلی کی عدالت میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے ۔چیف جسٹس گوگوئی کی زیرصدارت بنچ نے آبروریزی کی شکار لڑکی سڑک حادثہ سے دوچار ہونے کی سی بی آئی تحقیقات کو 45 دنوں میں مکمل کرنے کا وقت دیا ۔ عدالت نے سبھی معاملوں کو دہلی کی عدالت میں منتقل کرنے اور اس کی سماعت روزانہ منعقد کرنے کا بھی حکم دیا ہے ۔اس دوران اناؤ میں یوپی حکومت کے عہدیداروں نے سپریم کورٹ کے حکم نامہ کی تعمیل میں کام کرتے ہوئے 25 لاکھ روپئے کا چیک متاثرہ فیملی کے حوالے کیا ہے۔ یوپی حکومت کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ہوم)اونیش اوستھی نے لکھنؤ میں بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم نامہ کی تعمیل کردی گئی ہے۔ قبل ازیں کانگریس نے کہا کہ بی جے پی کا ملزم ایم ایل اے کو پارٹی سے خارج کرنا ایک مجرم کو طاقتور بنانے کا اعتراف ہے۔ پرینکا گاندھی نے بی جے پی کے رویہ پر سوال اُٹھایا ہے۔