نئی دہلی ۔ 2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے جمعہ کوبتایا کہ اناؤ عصمت ریزی معاملہ کی متاثرہ لڑکی کے خاندان کو اس بات کی آزادی حاصل ہے کہ وہ لکھنؤ دواخانے سے اسے اے آئی آئی ایمس میں منتقل کرنے کی درخواست کریں۔ اس واقعہ کی متاثرہ لڑکی رائے بریلی میں ایک سڑک حادثہ میں زخمی ہونے کے بعد لکھنؤ دواخانہ میں زیرعلاج ہے۔ عدالت عظمیٰ نے سینئر ایڈوکیٹ وی گری کے اس بیان پر خصوصاً توجہ دی ہیکہ حادثہ کے بعد سے اب تک عصمت ریزی کے واقعہ سے متاثرہ لڑکی بے ہوش ہے اور اسے مصنوعی تنفس پر رکھا گیا ہے۔ اس کے خاندان کے افراد نے کہا ہیکہ فی الحال اس کا علاج لکھنؤ ہاسپٹل ہی میں جاری رکھا جائے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی قیادت میں قائم ایک بنچ نے اس تجویز کو قبول کرلیا اور کہا کہ متاثرہ لڑکی کے خاندان کے افراد کو اسے لکھنؤ سے دہلی کے اے آئی آئی ایمس میں منتقلی کا اختیار حاصل ہے۔ اس بنچ میں جسٹس دیپک گپتا اور انیرواھا بوس بھی شامل ہیں۔ اسے یہ اطلاع دی گئی کہ زنا بالجبر کا شکار لڑکی کا وکیل جو سڑک حادثہ میں اس کے ساتھ زخمی ہوا تھا اس کے مصنوعی تنفس آلات ہٹا لئے گئے ہیں مگر اس کی حالت اب بھی بہت نازک ہے۔