انتخابات حرام تھے ، اب حلال کیسے ہوگئے ہیں ؟

   

چناؤ لڑنے والے جماعت اسلامی کے قائدین پر عمر عبداللہ کا طنز
سرینگر: نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ نے کہا کہ ممنوعہ تنظیم جماعت اسلامی کے رہنماؤں کا جموں و کشمیر کے آئندہ انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ بروقت ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ انتخابات حرام تھے، لیکن اب انتخابات حلال (جائز) ہوگئے ہیں۔دیرآید درست آید۔اننت ناگ ضلع کے پہلگام میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ طویل عرصے سے کہہ رہے ہیں کہ جمہوریت ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔عمرعبداللہ نے مزید کہا کہ 35 سال تک جماعت اسلامی ایک مخصوص سیاسی نظریے کی پیروی کرتی رہی جو اب بدل چکی ہے۔ اچھا ہے ہم چاہتے تھے کہ جماعت پر پابندی ختم ہو اور وہ اپنے انتخابی نشان پر الیکشن لڑیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ لیکن یہ بھی اچھی بات ہے کہ وہ آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ رائے دہندگان کو طئیکرنا ہے کہ اگر جماعت پیپلز کانفرنس (پی سی) کی حمایت کرتی ہے تو وہ کس پارٹی کی حمایت کرے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز کانفرنس کے بی جے پی کے ساتھ تعلقات عوامی ہیں۔اگر جماعت پیپلز کانفرنس کا ساتھ دیتی ہے تو ووٹرز کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کس پارٹی کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ نے اعتماد ظاہر کیا کہ جب 4 اکتوبر کو نتائج کا اعلان کیا جائے گا۔
، نیشنل کانفرنس-کانگریس اتحاد کو جموں و کشمیر کی 90 رکنی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوگی۔