انتخابی اخراجات داخل نہ کرنے پر نااہل قرار دینے کی دھمکی

   


اسٹیٹ الیکشن کمیشن کا 8 جنوری کو مبصرین کے ساتھ اجلاس، آئندہ ہفتہ نو منتخب ارکان کا اعلامیہ
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے نو منتخب کارپوریٹرس نے ابھی تک حلف بھی نہیں لیا لیکن اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے رکنیت سے نااہل قرار دینے کی دھمکی دیتے ہوئے دلوں کی دھڑکنوں کو تیز کردیا ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن جی پارتھا سارتھی نے کہا کہ اگر حالیہ انتخابات میں منتخب ہونے والے امیدوار انتخابی خرچ کی تفصیلات داخل نہ کریں تو انہیں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا جائے گا ۔ تمام امیدواروں کو اپنے اخراجات کی تفصیلات کمیشن میں داخل کرنا ہے۔ اسٹیٹ الیکشن کمیشن نے 30 انتخابی مبصرین کے ساتھ 8 جنوری کو اجلاس منعقد کیا ہے تاکہ انتخابی اخراجات داخل نہ کرنے والے امیدواروں کی تفصیلات حاصل کی جاسکے۔ مبصرین کی جانب سے امیدواروں کو نوٹس جاری کی جائے گی اور اس کے باوجود وہ اخراجات کی تفصیلات داخل نہ کریں تو انہیں آئندہ انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا جائے گا ۔ اجلاس میں ایسے امیدواروں کی تعداد کا اندازہ ہوسکتا ہے جنہوں نے اخراجات کی تفصیل داخل نہیں کی۔ اسی دوران الیکشن کمشنر پارتھا سارتھی نے بتایا کہ نو منتخب کارپوریٹرس کے ناموں کو عنقریب گزٹ میں شائع کیا جائے گا ۔ توقع ہے کہ گزٹ نوٹیفکیشن 10 جنوری کے بعد جاری ہوگا۔ اگر منتخب نمائندوں کے نام 11 جنوری سے قبل گزٹ میں شائع کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں جی ایچ ایم سی کونسل کا اجلاس 11 فروری سے قبل طلب کرنا ہوگا۔ ذرائع کے مطابق نتائج کے اعلان کے اندرون 45 یوم امیدواروں کو انتخابی اخراجات کی تفصیل الیکشن کمیشن میں داخل کرنی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 2014 ء کے مجالس مقامی اور 2016 کے جی ایچ ایم سی انتخابات میں حصہ لینے والے 2000 سے زائد امیدواروں نے اخراجات کی تفصیلات داخل نہیں کی ، لہذا انہیں تین برسوں تک انتخابات میں حصہ لینے سے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے انتخابی خرچ سے متعلق مبصرین رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد یہ طئے کرتے ہیں کہ آیا اخراجات مقررہ حد کے مطابق تھے یا نہیں۔