انتخابی امیدوار کیلئے ہر منقولہ اثاثہ ظاہر کرنےکی شرط نہیں:سپریم کورٹ

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے منگل کو کہا کہ الیکشن لڑنے والے شخص کو اس کی یا اس کے خاندان کی ملکیت والی ایسی ہر منقولہ جائیداد کی تفصیلات ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں ہے جس سے ووٹنگ کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑتا ہے ۔جسٹس انیرودھا بوس اور جسٹس پی وی سنجے کمار نے 2019 کے اروناچل پردیش قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں تیزو حلقہ سے آزاد امیدوار کے طور پر جیتنے والے کارکھو کری کے انتخاب کی درستگی کی تصدیق کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے یہ وضاحت کی کہ چونکہ یہ کیس کے حقائق اور حالات پر مبنی ہے اس لیے اس کے حکم کو نظیر نہیں سمجھا جائے گا۔ بنچ نے کہا کہ کسی ووٹر کو کسی امیدوار کی ذاتی زندگی میں جھانکنے کا مکمل حق نہیں ہے ۔ امیدوار کو اس نوعیت کی منقولہ جائیداد ظاہر کرنے کی ضرورت ہے جس سے مذکورہ ووٹ پر اثر انداز ہونے کا امکان ہو۔گوہاٹی ہائی کورٹ کی ایٹا نگر بنچ نے گزشتہ سال کری کے انتخاب کو غلط قرار دیا تھا، جس کے فیصلے کو سپریم کورٹ نے منگل کو پلٹ دیا ۔ کری نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔آزاد امیدوار کری کے انتخاب کو کانگریس امیدوار نونی تیانگ نے چیلنج کیا تھا۔
انہوں نے الزام لگایا تھا کہ کری نے اپنے انتخابی کاغذات نامزدگی کے ساتھ جمع کرائے گئے حلف نامہ میں جھوٹے اعلانات کئے ہیں۔