نئی دہلی، 4 دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) انتخابی بانڈ پر روک سے متعلق پٹیشن پر سپریم کورٹ اگلے برس جنوری میں سماعت کرے گا۔عرضی گزار ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمس (اے ڈی آر) کی جانب سے وکیل پرشانت بھوشن نے چیف جسٹس ایس اے بوبڈے ، جسٹس بی آر گَوئی اور جسٹس سوریہ کانت کی بنچ کے معاملے کی خصوصی وضاحت کی۔مسٹر بھوشن نے دلیل دی کہ خود ریزرو بینک نے کہا ہے کہ اس منصوبے سے کالا دھن اور منی لانڈرنگ کو بڑھاوا ملے گا۔ عدالت نے کہا کہ وہ اس معاملے کی سماعت جنوری 2020 میں کرے گی۔سماعت کے دوران بنچ نے دریافت کیا کہ منصوبہ شروع کرنے کے ایک سال بعد اس پر روک کے مطالبے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ مسٹر بھوشن نے دلیل دی کہ اے ڈی آر نے گزشتہ برس ہی اس معاملے میں ایک عرضی دائر کی تھی جس پر اس برس اپریل میں حتمی حکم جاری کیا گیا تھا۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ اس سے سیاسی پارٹیوں کو غیر محدود کارپوریٹ عطیہ کے دروازے کھل گئے ہیں۔ ہندوستان کے ساتھ ہی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے نامعلوم عطیات دیے جا رہے ہیں، جس کا ملک کی جمہوریت پر سنگین اثر پڑسکتا ہے ۔