انتخابی تشہیر میں بی جے پی کی پریشانی ظاہر ہے : رام رمیش

   

نئی دہلی: جئے رام رمیش نے کہا کہ جھارکھنڈ میں ہمارے نان بایولوجیکل وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دیگر بی جے پی لیڈران کی انتخابی تشہیر واضح طور پر ظاہر کرتی ہے کہ وہ بوکھلاہٹ اور ہڑبڑاہٹ کے شکار ہیں۔مہاراشٹرا اور جھارکھنڈ میں اسمبلی انتخابات کیساتھ ساتھ ملک بھر میں 14 ریاستوں کی 48 اسمبلی سیٹوں اور 2 ریاستوں کی 2 لوک سبھا سیٹوں پر ضمنی انتخابات ہونے ہیں۔ اس تعلق سے سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ لگاتار انتخابی ریلیوں میں کانگریس پر حملہ کر رہے ہیں۔ اس تعلق سے کانگریس جنرل سکریٹری جئے رام رمیش نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہیکہ انتخابی تشہیر میں بی جے پی لیڈران کے رویہ سے ان کا خوف نظر آ رہا ہے۔جئے رام رمیش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ جھارکھنڈ میں ہمارے نان بایولوجیکل وزیراعظم، وزیر داخلہ اور دیگر بی جے پی لیڈران کی انتخابی تشہیر ظاہر کرتا ہیکہ وہ بوکھلائے اور ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ 2024 کے انتخابی نتائج سے باہر نہیں نکل پائے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ پی ایم مودی، امیت شاہ، یوگی آدتیہ ناتھ اور آسام کے وزیراعلیٰ کا واحد ایجنڈا سماجی پولرائزیشن ہے۔ ان کا مقصد ہے دشمنی پھیلاؤ، فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلاؤ اور فرقہ واریت کا زہر پھیلاؤ۔ ان کے پاس پولرائزیشن کے علاوہ کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔ رمیش کا کہنا ہیکہ مہاراشٹرا میں کانگریس، این سی پی۔ایس پی، شیوسینا (یو بی ٹی) پر مشتمل مہاوکاس اگھاڑی نے کسانوں، خواتین، نوجوانوں، سماجی انصاف کے ایشوز کو مدنظر رکھ کر انتخابی تشہیر کی ہے لیکن بی جے پی والے مہاراشٹرا میں پولرائزیشن کرتے ہیں۔جھارکھنڈ میں جائیے، ہم جے ایم ایم اور کانگریس کس بات کیلئے انتخابی تشہیر کر رہے ہیں، پانچ سال میں ہمارا کام، اگلے پانچ سال کیلئے ہمارا روڈ میپ، قبائلیوں، ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کیلئے کام، سماج کے ہر طبقہ کیلئے کام، جنگل اور جنگل کے ایشوز۔ یہ ہماری انتخابی تشہیر کا حصہ رہے ہیں۔
لیکن جھارکھنڈ میں بھی بی جے پی کا واحد ایجنڈا پولرائزیشن ہے۔اس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی بوکھلائی اور ڈری ہوئی ہے۔ میں وزیر اعظم کو بتانا چاہوں گا کہ جب آپ مردم شماری کریں گے، تبھی آپ آگے بڑھ پائیں گے۔ سماجی انصاف کی بنیاد کیا ہے؟ مردم شماری۔ وہ مردم شماری سے پوچھے کیوں ہٹ رہے ہیں؟ اگر آپ ذات پر مبنی سروے، ذات پر مبنی مردم شماری نہیں کریں گے تو آپ سماجی انصاف کیسے لائیں گے؟