امریکی تاریخ میں پہلی بار کسی صدر پر فردِ جرم براہ راست ٹیلی ویژن پرنشر’’یہ مجھے دھاندلی زدہ لگتا ہے‘‘ : ٹرمپ
واشنگٹن : امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر جارجیا کی ریاست میں بھی سنہ 2020 کے انتخابی نتائج کو بدلنے کی کوشش کے الزام میں دو سال تفتیش کے بعد فردِ جرم عائد کر دی گئی ہے۔خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انتخابی بدعنوانی کے اس الزام کے تحت جارجیا میں صدر جو بائیڈن کی جیت کو اپنے حق میں بدلنے کی کوشش پر دو برس معاملے کی تفتیش کی گئی۔ری پبلکن پارٹی کے 77 سالہ لیڈر پر یہ الیکشن کے نتائج کو بدلنے کی کوشش میں عائد کی جانے والی چوتھی فردِ جرم ہے۔امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سابق صدر پر فردِ جرم عائد کیے جانے اور اُن کے ٹرائل کو براہ راست ٹیلی ویژن پر دکھایا جا رہا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے فردِ جرم عائد کیے جانے پر کہا کہ ’یہ مجھے دھاندلی زدہ لگتا ہے۔‘انہوں نے اپنے ٹرتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ’ڈھائی برس قبل یہ فردِ جرم کیوں عائد نہ کی؟ کیونکہ یہ میرے الیکشن مہم کے درمیان یہ سب کرنا چاہ رہے تھے۔ یہ چن کر نشانہ بنا رہے ہیں۔‘اٹلانٹا میں استغاثہ نے سابق صدر پر 13 الزامات عائد کیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ اگلے صدارتی الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کی جانب سے امیدوار کے طور پر سامنے آنے کا اعلان کر چکے ہیں۔سابق صدر پر نیو یارک کی عدالت میں مقدمہ زیرِ سماعت ہے جبکہ ساؤتھ فلوریڈا اور واشنگٹن میں بھی اُن پر دو مقدمات میں فردِ جرم عائد کی جا چکی ہے۔ اب جارجیا میں چوتھے مقدمے کا آغاز ڈونلڈ ٹرمپ کی مشکلات میں مزید اضافہ کا سبب بن سکتا ہے۔دو بار مواخذے کا سامنے کر کے اپنی صدارتی مدت مکمل کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ پر جارجیا کی ریاست میں انتخابی دھاندلی کے قانون کی خلاف ورزی کے تحت مقدمہ درج کر کے فردِ جرم عائد کی گئی۔قانون کے تحت عائد کی گئی فردِ جرم میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر جعل سازی کی سازش کی اور جھوٹے بیانات اور دستاویزات پیش کیں۔فردِ جرم میں سابق صدر کے ساتھ اُن کی ذاتی وکیل روڈی گیولیانی اور وائٹ ہاؤس کے سابق چیف آف سٹاف مارک میڈوز کو بھی نامزد کیا گیا ہے کہ انہوں نے جارجیا کے قانون سازوں پر نتائج بدلنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ریاست جارجیا میں جو بائیڈن نے 12 ہزار سے بھی کم ووٹوں سے ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دی تھی۔قانونی ماہرین کے مطابق جارجیا میں جس قانون کے تحت سابق صدر پر فردِ جرم عائد کی گئی یہ منظم جرائم کے انسداد کے لیے بنایا گیا ہے
ٹرمپ سمیت 19 کے خلاف گرفتاری وارنٹ
واشنگٹن: امریکہ میں ایک گرینڈ جیوری نے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ سمیت انتخابی مداخلت معاملے میں 41 فرد جرم میں نامزد 19 مدعا علیہان کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔فلٹن کاؤنٹی ڈسٹرکٹ اٹارنی فینی ولیس نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ان سب کو 25 اگست تک رضاکارانہ طور پر خودسپردگی کا موقع ملے گا۔ ولیس نے گذشتہ رات کہاکہ فرد جرم کے بعد جیسا کہ جارجیا کے قانون کے تحت عام طریقہ کار ہے ، گرینڈ جیوری نے ان لوگوں کیلئے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے جن پر فرد جرم عائد کی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں ملزمین کو جمعہ25 اگست 2023 تک رضاکارانہ طور پر خودسپردگی کا موقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ عدالت سے آئندہ چھ ماہ کے اندر مقدمے کی سماعت کی تاریخ طے کرنے کو کہیں گی۔ ٹرمپ کو جارجیا میں 2020 کے صدارتی انتخابات کے نتائج کو پلٹنے کی مبینہ کوشش سے متعلق 13 فوجداری الزامات کا سامنا ہے ، جن میں جارجیا آر آئی سی اوایکٹ کی خلاف ورزی، ایک سرکاری اہلکار سے حلف کی خلاف ورزی کا مطالبہ کرنا شامل ہیں۔ (متعلقہ خبر صفحہ 4 پر)
، جھوٹے بیانات دینا اور لکھنا، جعلسازی اور دوسرے معاملات شامل ہیں۔قانون کے مطابق صرف جارجیا کی دھوکہ دہی کی ایکٹ میں 20 سال تک قید کی سزا ہے ۔ اس شخص کو 250,000 ڈالر تک کے جرمانے یا غیر قانونی سرگرمی سے حاصل ہونے والی آمدنی کا دوگنا جرمانہ بھی ہو سکتا ہے ۔