۔ 63 سالہ شولزنے اقتدار سنبھال لیا،کورونا وباء کے بڑھتے خطرات جرمنی کیلئے سب سے بڑا چیلنج
برلن جرمن پارلیمان نے سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کے رہنما اولاف شولز کو نئے چانسلر کے طور پر منتخب کرلیا، جس سے انجیلا میرکل کی 16 سالہ قدامت پسند حکمرانی کا خاتمہ ہو گیا اور ان کی اتحادی حکومت کے لیے راہ ہموار ہو گئی، جس نے ماحول دوست سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور یورپی اتحاد کو مضبوط کرنے کے عزم کا اظہار کیاہے۔رپورٹ کے مطابق بنڈیسٹگ بیربیل کے صدر نے بتایا کہ اولاف شولز نے پارلیمان کے ایوان زیریں سے 395 ووٹ حاصل کیے، 63 سالہ شولز گزشتہ چار سالوں میں میرکل کے ساتھ اتحاد میں وائس چانسلر اور وزیر خزانہ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔صدر فرینک والٹراسٹین میئر کی طرف سے باضابطہ طورپر نامزد ہونے کے بعد شولز جرمن دارالحکومت کے مرکز بیلیوو پیلس کے قریب میں واقع تاریخی ریخسٹگ عمارت میں واپس آئے تاکہ قانون سازوں کے سامنے اپنے عہدے کا حلف اٹھا سکیں ، وہ دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعدسے جرمنی کے نویں چانسلر بنیہیں۔شولز نے اپنی توانائیاں جرمن عوام کی فلاح و بہبود کے لیے وقف کرنے کا حلف اٹھایا۔شولز کے حلف اٹھانے کے بعد انجیلا میرکل نے باضابطہ طور پر چانسلری ان کے حوالے کی اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا کیونکہ ملک کو کورونا وائرس کے انفیکشن کی مہلک چوتھی لہر اور آمرانہ رہنماؤں کی جانب سے اس کے جمہوری نظام کو درپیش چیلنجز کا سامنا ہے۔اس موقع پراپنی مختصر تقریر میں شولز نے میرکل کو ایک عظیم چانسلر کے طور پر سراہا اور گزشتہ برسوں میں قریبی اور بھروسہ مند تعلقات کے لیے ان کا شکریہ ادا کیا۔بندرگاہی شہر ہیمبرگ میں اپنی مشترکہ شمالی روایات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شولز نے کہا کہ ’میں ملک کو شمال مشرقی جرمن ذہنیت پر استوار کرنا چاہوں گا،اس سلسلے میں نظام میں کچھ زیادہ تبدیلی نہیں آئے گی۔‘اپنے عاجزانہ مگر واضح انداز میں شولز نے خود کو میرکل کے فطری جانشین کے طورپر کھڑا کیا ہے اور جرمنی کو موسمیاتی بحران سے نمٹنے سے لے کر مزید تصادم کے شکار روس اور تیزی سے ثابت قدم چین کے ساتھ تعلقات تک کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے بہت اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔ماضی کے برعکس چانسلر شولز وفاقی سطح پر ایک بے مثال تین طرفہ حکمران اتحاد کی قیادت کریں گے جن میں اخراجات کے حامی، ماحولیات پسند گرینز اور مالی لحاظ سے زیادہ قدامت پسند، آزادی پسند فری ڈیموکریٹس شامل ہیں۔