ذخیرہ آب نظام ساگر تلنگانہ کا اہم ورثہ ، محفوظ رکھنا حکومت کی ذمہ داری ، کسانوں کیلئے جدوجہد کا عزم
کاماریڈی۔ 26 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ جاگروتی صدرکے کویتا نے آج نظام ساگر اور ناگامڈگو لِفٹ ایریگیشن پراجیکٹ کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے جُوکل حلقے میں آبپاشی سے متعلق بے قاعدگیوں اور سرکاری غفلت پر سخت ناراضگی ظاہر کی۔ انہوں نے دورے کا آغاز نظام حکومت کے سابق چیف انجینئر علی نواز جنگ بہادر کے مجسمہ پر خراج گل پیش کرتے ہوئے کیا۔ انہیں تاریخی آبپاشی نظام کا معمار قرار دیتے ہوئے خراج عقیدت پیش کیا۔کویتا نے اس موقع پر کہا کہ جُوکل حلقہ آج بھی شدید پسماندگی کا شکار ہے، حالانکہ اس کے قریب نِظام ساگر جیسا بڑا ذخیرہ آب موجود ہے۔ حلقے میں تالابوں کے ذریعے صرف 22 ہزار ایکڑ اور کولاس نالہ کے ذریعہ 9 ہزار ایکڑ کو ہی پانی سیراب ہو رہا ہے، جبکہ مہاراشٹر سے متعلق تنازعہ کے سبب لینڈی پروجیکٹ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ناگامڈگو لِفٹ اسکیم کے تحت 40 ہزار ایکڑ کو پانی فراہم کرنے کا منصوبہ تھا، مگر زمین کے حصول سمیت بیشتر کام ادھورے چھوڑ دیے گئے۔انہوں نے شکایت کی کہ مانجرا ندی سے پانی لانے کیلئے درکار 200 ایکڑ اراضی میں سے اب تک صرف 12 ایکڑ اراضی ہی حاصل کی گئی ہے، جبکہ کئی مقامات پر بغیر قانونی طریقہ کار اور بغیر زمین حاصل کئے پتھر ڈال کر کام شروع کردیا گیا، جس سے تین دیہات کے عوام شدید پریشان ہیں اور انہیں خطرہ لاحق ہے کہ انہیں پانی نہیں ملے گا۔نظام ساگر پراجیکٹ کے معائنے کے دوران کویتا نے اس ذخیرہ آب کی خستہ صورتِ حال پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی پراجیکٹ 1923 میں تعمیر ہوا اور اب 100 سال مکمل کرچکا ہے، مگر اس میں مسلسل مٹی بھرنے کے باعث پانی کی گنجائش بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ 1972 میں اس کی صلاحیت 30 ٹی ایم سی تھی، جو اب گھٹ کر 17 ٹی ایم سی رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گنجائش میں کمی کے باعث بارش کے دوران پانی محفوظ کرنے کے بجائے گیٹ کھول کر پانی چھوڑنا پڑ رہا ہے، جو ایک بڑی ناکامی ہے۔کویتا نے بتایا کہ علی ساگر پراجیکٹ اسی نظام کا توسیعی حصہ ہے اور اُس وقت کے منصوبے کے مطابق تین لاکھ ایکڑ زمین پانی کو سیراب ہونا تھا، مگر عملی صورتحال اس کے برعکس ہے۔کویتا نے کہا کہ نظام ساگر تلنگانہ کی آبی روایت کا اہم ورثہ ہے اور حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اسے فوری طور پر بحال کر کے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بنایا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ آبپاشی کے نظام کو مستحکم کرنا کسانوں کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے، اور اس مقصد کے لیے وہ کسانوں کے شانہ بشانہ جدوجہد جاری رکھیں گی۔