کے سی آر نے انحراف کے کلچر کو فروغ دیا، تلنگانہ میں بی آر ایس کا وجود ختم
حیدرآباد ۔ 12۔ جولائی (سیاست نیوز) سینئر کانگریس لیڈر اور حکومت کے مشیر برائے اقلیت و کمزور طبقات محمد علی شبیر نے ارکان اسمبلی و کونسل کے انحراف کے مسئلہ پر بی آر ایس ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا ہے۔ گاندھی بھون میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کے ٹی آر کے الزامات کو مسترد کردیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ کانگریس نے انحراف کا کلچر شروع کیا تھا ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ کے سی آر اور کے ٹی آر نے گزشتہ 10 برسوں میں انحراف کی حوصلہ افزائی کی اور انحراف کو قانونی شکل دی گئی ۔ گزشتہ 10 برسوں میں اپوزیشن کے ارکان اسمبلی و کونسل اور ارکان پارلیمنٹ کے انحراف کی فہرست جاری کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے بتایا کہ 2014 سے 2018 تک جملہ 47 عوامی نمائندوں نے بی آر ایس میں شمولیت اختیار کی۔ ان میں 4 ارکان پارلیمنٹ ، 25 ارکان اسمبلی اور 18 ارکان کونسل شامل ہیں۔ دوسری میعاد میں کانگریس کے 12 اور تلگو دیشم 2 ارکان اسمبلی کو بی آر ایس میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انحراف کا آغاز کرنے والے بی آر ایس قائدین کو اس مسئلہ پر اظہار خیال کا کوئی اخلاقی حق حاصل نہیں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ٹی سرینواس یادو کو اسمبلی کی رکنیت سے استعفیٰ کے بغیر ہی کابینہ میں شامل کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں میعادوں میں کے سی آر کو اسمبلی میں اکثریت حاصل تھی ، پھر بھی ایوان میں اپوزیشن کو کمزور کرنے کیلئے انحراف کی حوصلہ افزائی کی گئی ۔ محمد علی شبیر نے کے ٹی آر کو چیلنج کیا کہ وہ راہول گاندھی اور ریونت ریڈی پر تنقید کرنے کے بجائے کھلے مباحث کے چیلنج کو قبول کریں جس میں گزشتہ 10 برسوں کے اعداد و شمار پیش کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں انحراف کا کلچر کے سی آر کی جانب سے متعارف کردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ ثابت کرنے میں ناکام رہے تو عہدہ سے استعفیٰ کے علاوہ سیاست سے دستبرداری اختیار کرلیں گے۔ کے ٹی آر کو ناکامی کی صورت میں سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات میں بی آر ایس نے اپنا ووٹ بینک بی جے پی کو منتقل کیا جس کے نتیجہ میں بی جے پی کو 8 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی ۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ جس کلچر کا کے سی آر نے آغاز کیا تھا، آج وہی ان کیلئے وبال جان بن چکا ہے ۔ بی آر ایس ارکان اسمبلی اپنے حلقہ جات کی ترقی کیلئے کانگریس میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ کے ٹی آر کی جانب سے انحراف کے بجائے بی آر ایس میں انضمام کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ ابتداء میں چند ارکان اسمبلی بی آر ایس میں شامل کئے گئے اور بعد میں مزید ارکان کے ساتھ سی ایل پی کے انضمام کا اعلان کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ لوک سبھا نتائج کے بعد تلنگانہ میں بی آر ایس کا وجود خطرہ میں پڑچکا ہے۔ 1