چدمبرم نے سی اے اے مخالف احتجاجی وکلاء کیساتھ دستوری دیباچہ پڑھا
حیدرآباد۔9 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ایڈوکیٹس جے اے سی سے تعلق رکھنے والے وکلاء کے ایک گروپ نے سی اے اے کے خلاف دھرنا چوک اندرا پارک پر جمع ہوکر احتجاجی مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سی اے اے سے دستوری دفعات 14 اور 21 کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔ انہوں نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے درخواست کی کہ ریاستی اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو اس قانون کے خلاف اپنی سفارش روانہ کرے، کیونکہ اس سے کسی شخص کی انفرادی شناخت مذہبی خطوط پر ہورہی ہے جو دستوری دفعات کے مغائر ہے۔ مظفر اللہ خاں ایڈوکیٹ نے کہا کہ ’’ہم ٹی آر ایس حکومت کے موقف کا خیرمقدم کرتے ہیں، کیونکہ اس نے سی اے اے اور این آر سی کے خلاف احتجاج کیا ہے، لیکن اس بات کو خصوصیت کے ساتھ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر کوئی حکومت ، ریاستی اسمبلی میں قرارداد منظور کرتی ہے اور دستوری دفعہ 131 کے تحت ایک مقدمہ دائر کرتے ہوئے اس پر پیشرفت کی جاسکتی ہے۔ جے اے سی ایڈوکیٹس نے ریاستی حکومت سے درخواست کی کہ وہ تمام شہریوں کو اس قانون کے خلاف احتجاج کا موقع فراہم کریں اور پولیس کی اجازت کو یقینی بنایا جائے۔ کانگریس لیڈر پی چدمبرم اور پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اتم کمار ریڈی نے احتجاجی وکلاء سے اندرا پارک میں ملاقات کرتے ہوئے ان کے ساتھ قومی ترانہ اور دستوری دیباچہ پڑھا۔