ریاستی کانگریس کی جانب سے حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان
اندور15؍جنوری ) ایجنسیز ) کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں قائدِزبِ اختلاف راہول گاندھی 17 جنوری کو مدھیہ پردیش کے شہر اندور کا دورہ کریں گے۔ وہ اندور کے بھاگیرتھ پورہ علاقے میں آلودہ پینے کا پانی استعمال کرنے سے ہونے والی اموات کے معاملے میں متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کریں گے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس علاقے میں گندہ پانی پینے کے سبب تقریباً دو درجن افراد کی اموات کی اطلاعات ہیں جس کے بعد ریاستی حکومت اپوزیشن کے نشانہ پر ہے۔مدھیہ پردیش کانگریس کمیٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ راہول گاندھی اپنے دورے کے دوران متاثرہ خاندانوں سے اظہارِ یکجہتی کریں گے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوں گے۔ پارٹی کے مطابق اس دورے کا مقصد صرف سیاسی بیان بازی نہیں بلکہ ان خاندانوں کے مسائل کو قریب سے سمجھنا اور ذمہ داروں کی جواب دہی کو یقینی بنانا ہے۔راہول گاندھی کے دورے کے موقع پر کانگریس اندور میں ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کا انعقاد بھی کرے گی۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ اس مظاہرے کے ذریعہ اس لاپروائی کو اجاگر کیا جائے گا جس کے نتیجے میں اتنی بڑی انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ ریاستی کانگریس کے صدر جیتو پٹوارے اور اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف اومنگ سنگھار سمیت کئی سینئر رہنما اس احتجاج میں شریک ہوں گے۔کانگریس میڈیا سیل کے مطابق 17 جنوری کو پورے مدھیہ پردیش میں ریاست گیر سطح پر احتجاج ہوگاجس کے تحت کانگریس کارکن مختلف مقامات پر مہاتما گاندھی کے مجسموں کے سامنے دھرنا دیں گے۔ پارٹی کا دعویٰ ہے کہ یہ احتجاج عوامی صحت اور بنیادی سہولتوں کے تحفظ کیلئے ہے۔
دوسری جانب راہول گاندھی کے دورے سے بی جے پی کی قیادت میں تشویش دیکھی جا رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ موہن یادو نے کانگریس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس سانحے کو سیاست کا ذریعہ بنا رہی ہے۔
اندور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت نے متاثرین کے درد کو محسوس کیا ہے اور ان کی مدد کیلئے ہر ممکن قدم اٹھایا گیا ہے۔