اندور میں بھیک مانگنے والا معذور شخص کروڑوں کا مالک

,

   

Ferty9 Clinic

نئی دہلی ۔19 جنوری ۔ (ایجنسیز ) اندور، مدھیہ پردیش، میں بھیک کے خاتمے کی مہم کے دوران ایک ایسا انکشاف سامنے آیا جس نے انتظامیہ کو حیران کر دیا۔اندور کے مشہور سرّافہ بازار میں خاموشی سے بیٹھ کر لوگوں کی ہمدردی سمیٹنے والا ایک معذور شخص اس وقت خبروں کی زینت بن گیا، جب سرکاری کارروائی میں اس کی اصل حقیقت سامنے آئی۔ یہ شخص منگی لال ہے، جو بظاہر نادار دکھائی دیتا تھا، مگر درحقیقت کروڑوں روپے کے اثاثوں کا مالک نکلا۔منگی لال لوہے کی بنی ایک چھوٹی گاڑی پر بیٹھ کر بازار میں آہستہ آہستہ خود کو آگے بڑھاتا تھا۔ نہ وہ کسی سے سوال کرتا تھا اور نہ ہی آواز لگاتا تھا، بس اس کی حالت دیکھ کر لوگ خود ہی سکے یا نوٹ ڈال دیتے تھے۔ روزانہ کی بنیاد پر اسے اسی طرح چار سو سے پانچ سو روپے تک مل جاتے تھے۔اصل کہانی مگر رات کے وقت سامنے آتی ہے۔ تفتیش کے دوران انکشاف ہوا کہ منگی لال بھیک سے جمع کی گئی رقم بازار کے تاجروں کو ادھار دیتا تھا۔ یہ رقم ایک دن یا ایک ہفتے کے لیے دی جاتی اور وہ خود روزانہ سود وصول کرنے بازار پہنچتا تھا۔ اندازے کے مطابق اس نے چار سے پانچ لاکھ روپے مختلف تاجروں کو دے رکھے تھے، جس سے روزانہ ایک ہزار سے دو ہزار روپے تک کمائی ہو رہی تھی۔اسے معذوری کی بنیاد پر حکومت نے ریڈ کراس کی مدد سے فراہم کیا تھا۔خواتین و اطفال ترقیاتی محکمے کی اینٹی بیگنگ مہم کے دوران ہفتہ کی رات کارروائی کرتے ہوئے ریسکیو ٹیم نے اسے حراست میں لیا۔ ابتدا میں اطلاع یہ تھی کہ ایک کوڑھ کا مریض سرّافہ میں بھیک مانگ رہا ہے، مگر جانچ پڑتال کے بعد معلوم ہوا کہ منگی لال تین مکانات کا مالک ہے، جن میں ایک تین منزلہ عمارت بھی شامل ہے، جبکہ باقی دو ایک منزلہ مکانات ہیں، جو شہر کے اچھے علاقوں میں واقع ہیں۔اس کے علاوہ اس کے پاس تین آٹو رکشے ہیں، جو کرائے پر چل رہے ہیں، اور ایک کار بھی ہے جسے وہ خود چلانے کے بجائے کرائے پر دیتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اسے معذوری کی بنیاد پر سرکاری رہائشی اسکیم کے تحت ایک کمرہ، ہال اور کچن پر مشتمل مکان بھی الاٹ کیا گیا، حالانکہ وہ پہلے ہی متعدد جائیدادوں کا مالک تھا۔محکمے کے افسر کے مطابق منگی لال کو فی الحال ایک شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا ہے اور اس کے بینک کھاتوں، جائیدادوں اور رقم کے لین دین کی تفصیلی جانچ جاری ہے۔ جن تاجروں نے اس سے رقم لی تھی، ان سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔ مکمل رپورٹ ضلعی انتظامیہ کو پیش کر دی گئی ہے اور آئندہ کارروائی ہدایات کے مطابق عمل میں لائی جائے گی۔