انسانیت بمقابلہ سسٹم : ایک بھائی کی بے حسی

   

محمد نعیم وجاہت
انسان کی تخلیق قدرت کا شاہکار ہے اور موت ایک اٹل حقیقت ہے لیکن ان دونوں کے درمیان کی زندگی جس طرح نظام کی چکی میں پستی ہے۔ وہی اصل المیہ ہے۔ اوڈیشہ کے ضلع کیونجھار کے جنگلوں سے اُٹھنے والی جیتو منڈا کی پکار محض ایک فریاد نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی روح پر لگا وہ گہرا زخم ہے جس نے جدید تہذیب کے تمام دعوؤں کو لہو لہان کردیا ہے۔ اپنی بہن کی باقیات کندھے پر اُٹھائے جیتو منڈا تین کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہوئے بینک کی دہلیز پر قدم رکھا تو اس نے پوری دنیا کے سامنے ایک خوفناک سوال کھڑا کردیا۔ کیا کاغذ کا ایک بے جان ٹکڑا انسان کے وقار سے زیادہ قیمتی ہے؟ یہ منظر اِس بات کا ثبوت ہے کہ ہم نے جیتے جاگتے انسانوں کو محض اکاؤنٹ نمبروں اور اعداد و شمار میں تبدیل کردیا ہے۔ جیتو منڈا جیسے معصوم قبائیلی اور بینک کے اے سی کمروں میں بولی جانے والی قانونی زبان کے درمیان چند سو سال کا تہذیبی فاصلہ ہے جس کو سمجھنے میں ہمارا نظام بُری طرح ناکام رہا ہے۔ جیتو نے اپنی بہن کی آخری نشانی اور جمع پونجی 19,300 روپئے حاصل کرنے کے لئے بینک کے چکر کاٹتے ہوئے بار بار بتایا کہ وہ مرچکی ہے۔ لیکن سسٹم نے نہیں سنا کیوں کہ اس نظام کے کان نہیں ہوتے، یہ صرف دستخط اور مہریں دیکھتا ہے۔ سوشل میڈیا پر اس تصویر نے انٹرنیٹ کو ہلاکر رکھ دیا اور سب نے بینک عملہ کو بُرا بھلا کہا لیکن یہاں ایک کڑوی حقیقت اور بھی ہے۔ وہ ملازم بھی قواعد اور ضابطوں کی زنجیر کے غلام ہیں جہاں انسانیت نام کا کوئی کالم موجود نہیں ہے۔ جب تک قوانین میں لچک نہیں ہوگی، ایسے مناظر ضمیر کو جھنجھوڑتے رہیں گے۔ اس زخم کو بھرنے کے لئے محض ہمدردی کافی نہیں ہے۔ ٹھوس انتظامی تبدیلیوں کی ضرورت ہے۔ کہتے ہیں قانون اندھا ہوتا ہے لیکن اس واقعہ کی تصویر نے ثابت کردیا کہ نظام نہ صرف اندھا ہے بلکہ بے حس اور بے درد بھی ہے۔ ایک معصوم قبائیلی نے جب دیکھا کہ زندہ انسان کی پکار کوئی نہیں سن رہا ہے تو اس نے نظام کے اُصولوں کو اس کی زبان میں جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ اڈیشہ کا یہ واقعہ محض ایک حادثہ نہیں ہے بلکہ ہمارے سیاسی اور انتظامی ڈھانچے کی ناکامی کا ثبوت ہے جس نے دنیا بھر میں ہمیں شرمسار کردیا ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ سیاستداں ہندو مسلم، ذات پات اور صرف ووٹ بینک کے حصار سے باہر نکلیں اور اس نظام کی مرمت کریں جو عام آدمی کا گلا گھونٹ رہا ہے۔ کیا سیاست کا مقصد صرف اقتدار کا حصول اور جذباتی نعروں میں عوام کو اُلجھانا ہے۔ جب ایک غریب انسان اپنی بہن کے باقیات کندھے پر اُٹھاکر بینک جاتا ہے تو کیا اُس وقت آپ کے ترقی کے دعوے شرمندہ نہیں ہوتے۔ سیاسی قائدین کے پاس بڑی ریالیاں، عظیم الشان جلسے عام منعقد کرنے کے لئے وسائل ہیں لیکن کیا ایک قبائیلی کے گھر تک ڈیتھ سرٹیفکٹ پہونچانے والا کوئی نظام نہیں ہے۔ ہمارے قوانین برطانوی دور کے فرسودہ ڈھانچے پر مبنی ہیں جہاں انسان کو صرف فائل سمجھا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ کو چاہئے کہ بینکنگ اور ریونیو قوانین میں ایسی ترمیم کریں کہ ہنگامی صورتحال میں انسانی ہمدردی کو کاغذی کارروائی پر فوقیت حاصل ہو۔ اگر کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہے تو مقامی پنچایت یا دو معزز شہریوں کی تصدیق کو قانونی متبادل تسلیم کیا جائے۔ صرف موبائیل پر ایپس ڈاؤن لوڈ کرنا ترقی نہیں ہے۔ ترقی یہ ہے کہ جب کسی کا انتقال ہو تو ہاسپٹل کا ڈیٹا خود کار طریقے سے بینک اور دیگر دفاتر سے منسلک کریں تاکہ پسماندگان کو در بدر ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ سرکاری ملازمین کو صرف قانون کی کتاب نہ پڑھائی جائے بلکہ انھیں یہ بھی سکھایا جائے کہ وہ عوام کے خادم ہیں مالک نہیں۔ جو عہدیدار جیتو منڈا جیسے مجبور لوگوں کی مدد کرنے کے بجائے ’’رولز‘‘ کا بہانہ بناکر انھیں ذلیل کریں، ایسے عہدیداروں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے۔ پسماندہ علاقوں میں لوگوں کا دفتر تک آنا مشکل ہوتا ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ’’انتظامیہ آپ کی دہلیز پر‘‘ کے عنوان سے موبائیل پوائنٹس بنائے جو مہینے میں ایک بار ہر گاؤں جاکر موقع پر ہی سرٹیفکٹس، پنشن اور بینکنگ کے مسائل کو حل کریں۔ مذہب اور فرقہ پرستی کی سیاست سے کسی غریب کا پیٹ نہیں بھرتا۔ اصل سیاست وہ ہے جو غریبوں اور ضرورت مندوں کے آنسو پونچھے، اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں بحث صرف ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر نہیں بلکہ عام آدمی کی زندگی آسان بنانے والے قوانین پر ہونی چاہئے۔ اگر ہم چاند پر جھنڈا گاڑ سکتے ہیں تو ایک ایسا نظام کیوں نہیں بنا سکتے کہ کسی بھائی کو اپنی بہن کی باقیات کی توہین نہ کرنی پڑے۔ سیاسی قائدین یاد رکھیں تاریخ آپ کو شعلہ بیان تقاریر سے نہیں بلکہ اس بات سے یاد رکھے گی کہ آپ کے دور میں ایک عام آدمی کا وقار کتنا محفوظ تھا۔ وقت آگیا ہے کہ اُصولوں کو انسانوں کے لئے بدلیں نہ کہ انسانوں کو اُصولوں کی بھینٹ چڑھائیں۔ صحیح معنوں میں مہذب معاشرہ وہی کہلائے گا جہاں زندگیوں کی اہمیت کاغذ کے ٹکڑوں سے زیادہ ہوگی۔ جس دن کسی جیتو منڈا کو بینک کے سامنے اپنی بہن کی باقیات بکھیرنی نہ پڑیں۔ اس دن ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہندوستان نے واقعی ترقی کی ہے۔ تبھی آنسوؤں کی جگہ غریب کی آنکھوں میں اپنے نظام پر اعتماد نظر آئے۔ بڑے انقلاب نہیں صرف چھوٹے مگر ضروری اقدامات کئے جائیں۔ کیا ہم صرف غصہ کرکے آگے بڑھ جائیں گے یا نظام کو بدلنے کی کوشش کریں گے اور سچ یہ بھی ہے کہ بینک کے ملازمین بھی قصوروار نہیں ہیں، وہ بھی انہی اُصولوں کے غلام ہیں۔ اگر وہ قواعد توڑتا ہے تو شاید اس کی نوکری چلی جاتی یعنی یہاں مسئلہ افراد کا نہیں بلکہ وہ قوانین ہیں جو انسان کو انسان نہیں رہنے دیتے۔