انسداد کورونا کی مہم کی کاروباری شکل

   

Ferty9 Clinic

قرنطینہ کے خواہشمند افراد کیلئے ہوٹلوں میں پیاکیج کی پیشکش
حیدرآباد۔یکم اپریل(سیاست نیوز) کورونا وائرس نے دنیا بھر میں سیاحت کو ختم کردیا ہے لیکن اب شہر میں اس وباء کو روکنے کے اقدامات نے بھی کاروباری شکل اختیار کرنی شروع کردی ہے اورہوٹلوں کی جانب سے خود کوالگ تھلگ اور قرنطینہ میں رکھنے کے خواہشمندوں کیلئے طبی سہولتوں کے ساتھ پیاکیج فراہم کئے جانے اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس کیلئے
OYO
نے اپولو ہاسپٹل کے ساتھ معاہدہ کرتے ہوئے اس سہولت کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ شہر حیدرآباد و سکندرآباد میں یہ سہولت لیمن ٹری ہوٹلس‘ جنجر ہوٹل کے علاوہ
OYO
کے ہوٹلوں میں فراہم کی جا رہی ہے اور کہا جا رہاہے کہ اس سہولت سے استفادہ کیلئے 1200 روپئے 3200 روپئے یومیہ کرایہ مقرر کیا گیا ہے۔جو لوگ سرکاری قرنطینہ میں رہنا نہیں چاہتے اور جن کے مکانوں میں ایسی سہولت موجود نہیں ہے کہ قرنطینہ میں رہتے ہوئے سماجی فاصلہ برقرار رکھ سکیں ان لوگوں کیلئے ہوٹل میں یہ سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔ بانی OYO
ہوٹلس مسٹر رتیش اگروال نے بتایا کہ ملک بھر میں موجود ہوٹلوں میں یہ خدمات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان خدمات کی فراہمی کے سلسلہ میں اپولو ہاسپٹلس سے طبی عملہ کی مدد حاصل کی جا رہی ہے۔ انہوںنے بتایا کہ شہر حیدرآباد میں اس سہولت سے لوگ استفادہ بھی کر رہے ہیں جو کہ گھروں میں سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ جن ہوٹلوں میں یہ خدمات فراہم کی جارہی ہیں ان میں طبی خدمات کے ساتھ اشیائے تغذیہ کی فراہمی کے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں اور اس کا مکمل پیاکیج دیا جا رہاہے۔ ڈاکٹر سنگیتا ریڈی نے بتایا کہ اس منصوبہ کو اپولو ہاسپٹلس کی حمایت کا مقصد یہ ہے کہ حیدرآباد و سکندرآباد میں اکثر اب بھی ایسے مکانات ہیں جن میں 4سے 5 افراد ایک ہی بیت الخلاء اور حمام کا استعمال کرتے ہیںاور ایسے میں قرنطینہ کا مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے اور اگر کوئی متاثر ہوجائے تو اس کے جراثیم دوسروں میں رسائی کرنے کے کئی ذرائع گھر میں ہی بننے لگتے ہیں اسی لئے اپولو ہاسپٹلس کی جانب سے اس منصوبہ کی حمایت کی گئی ہے اور کئی ہوٹلوں کے علاوہ ریستوراں کی جانب سے بھی ان لگژری قرنطینہ میں کھانے کی سربراہی پر رضامندی ظاہر کی جا رہی ہے اور
Zomato
نے بھی اس منصوبہ میں
OYO
اور اپولو کے ساتھ شراکت داری کا اعلان کیا ہے ۔ ہوٹلوں کے کمروں میں رہتے ہوئے عوامی فاصلہ برقرار رکھنے کے اقدامات سے وہ لوگ استفادہ کر رہے ہیں جو بیرون ملک سفر سے واپس ہوئے ہیں۔