انشورنس ورکرز مطالبات تسلیم نہ ہونے پر ہڑتال کریں گے

   

نئی دہلی : انشورنس سیکٹر کے ہزاروں ملازمین نے تنخواہ میں بے ضابطگیوں کو دور کرنے، 1995 کی پنشن اسکیم نافذ کرنے اور دیگر مطالبات کے تعلق سے چہارشنبہ کو احتجاجی مظاہرہ کیا اور کہا کہ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں انشورنس سیکٹر کے ہزاروں کارکن غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر چلے جائیں گے۔انشورنس سیکٹر کے ملازمین کی مختلف تنظیموں کے مشترکہ فورم نے اپنے مطالبات کے حق میں آج ملک بھر کے چیف منیجنگ ڈائریکٹرز کے سامنے مظاہرہ کیا اور دھرنا دیا۔ احتجاج کرنے والے ملازمین نے کہا کہ وہ 2017 سے مسلسل اپنے مطالبات کوپورا کرنے کی مانگ کررہے ہیں لیکن حکومت انہیں نظر انداز کر رہی ہے۔ انشورنس ملازمین کا کہنا ہے کہ انہوں نے حکومت سے یکم اگست 2017 سے قابل ادائیگی تنخواہ کے زیر التوا مسئلے کو حل کرنے، سب کے لئے 1995 کی پنشن نافذ کرنے، عبوری اقدام کے طور پر 14 فیصد انتظامی شراکت، بغیر کسی حد کے 30 فیصد یکساں فیملی پنشن اورپنشن اپڈیشن جیسے کئی مطالبات کئے۔ انہوں نے پبلک سیکٹر انشورنس ملازمین کی نجکاری کے خلاف بھی آواز بلندکرتے ہوئے صارفین اور شہریوں کے مفاد میں پبلک سیکٹر جنرل انشورنس کمپنیوں کے انضمام کا مطالبہ کیا۔احتجاج کرنے والے ملازمین نے کہا کہ اگر حکومت نے ان کے جائز مطالبات پر غور نہ کیا تو 8 جون سے حکومت کی توجہ اپنے مطالبات کی جانب مبذول کرنے کے لئے ایک گھنٹہ کام روکو تحریک کا آغاز کریں گے اور اگر پھر بھی ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو ملک بھر کی انشورنس کمپنیوں میں کام کرنے والے 50 ہزار ملازمین غیر معینہ مدت کی ہڑتال پر جائیں گے۔