انصاف قائم کرنے والے اداروں کا غیرمنصفانہ رویہ انتہائی افسوسناک: مولانا حکیم الدین قاسمی

,

   

امن و امان کے قیام کیلئے مساوات اور انصاف ناگزیر: مولانا عبداللہ قاسمی

جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری کا الہ آباد دورہ، متاثرین کے اہل خانہ و سینئر وکلاء سے ملاقات کرکے قانونی پیش رفت کیلئے لائحہ عمل تیار، ہرممکن قانونی لڑائی لڑنے کا اعلان

الہ آباد ۱۸ جون۔ توہین رسالت کے مجرمین کی گرفتاری کی مانگ کو لیکر ملک کے مختلف علاقوں میں ہوئے پرتشدد احتجاج کے بعد مظلومین کو انصاف اور گرفتار شدگان کو رہائی دلانے کیلئے جمعیۃ علماء ہند روز اول سے سرگرم ہے۔ جمعیۃ علماء کے صدر محترم مولانا سید محمود مدنی کی ہدایت پر قومی جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی متأثرہ اضلاع کا دورہ کرکے سرکاری افسران، سینئر وکلاء اور متاثرین کے اہل خانہ سے ملاقات کررہے ہیں۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے ایک وفد نے مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں الہ آباد پہنچ کر متأثرین و گرفتار شدگان کے اہل خانہ سے حال احوال دریافت کیے، ہائی کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ کے کے رائے سمیت متعدد وکلاء سے مل کر قانونی باریکیوں پر گفتگو کی، شہر الہ آباد کے معروف دانشور جاوید پمپ صاحب کے منہدم شدہ مکان کا جائزہ لیا اور جاوید صاحب کے فرزند محمد اُمم و دختران سے ملاقات کرکے ان کے ساتھ اظہار ہمدری اور جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے ہر ممکن قانونی و اخلاقی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔اس دوران مولانا حکیم الدین قاسمی نے بتلایا کہ الہ آباد شہر میں 97 نوجوانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے جن میں اکثر تعداد ان بےقصوروں کی ہے جن کا اس واقعہ کوئی لینا دینا نہیں تھا بلکہ اپنی ضروریات کے تحت وہ لوگ وہاں گئے ہوئے تھے۔ اسی طرح 5000 نامعلوم لوگوں پر کیس رجسٹرڈ کیا گیا ہے جس کی آڑ میں بڑی تعداد میں بےقصور نوجوانوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے اور ان کے گھر والوں کو بلیک میل کرکے ان سے رقم بھی وصولی جارہی ہیں۔ مولانا نے کہا کہ اپنے ہی شہریوں کے ساتھ ایسے رویہ کی کسی بھی انصاف پسند سماج میں گنجائش نہیں ہے، جمعیۃ علماء ہند کے صدر محترم حضرت مولانا محمود مدنی اس جیسے تمام معاملات کو لیکر سخت فکرمند ہیں اور روزآنہ کی بنیاد پر اس کا جائزہ لیکر ہدایات جاری کررہے ہیں۔ مولانا حکیم الدین قاسمی نے کہا کہ اس پورے معاملہ کو لیکر ایک شخص محمد جاوید کو بغیر کسی ٹرائل کے مجرم بناکر اس کے گھر کو ڈھا دینا اور ان کے اہل خانہ کو تین دن تک قید میں رکھنا نانصافی اور تاناشاہی کی بدترین مثالوں میں سے ایک ہے، جمعیۃ علماء کسی بھی طرح تشدد کے حمایت نہیں کرتی لیکن لاء اینڈ آرڈر کو نافذ کرنے والے ادارے جن پر ملک کے شہری اعتماد کرتا ہے، ان کی طرف سے غیرمنصفانہ رویہ ہر انصاف پسند شہری کیلئے افسوسناک ہے۔ مولانا نے بتلایا کہ اس سلسلے میں انتظامیہ کے افسران آئی جی و ایس ایس پی سے مسلسل رابطہ جاری ہے اور جمعیۃ علماء ہند ہائی کورٹ کے وکلاء کا پینل بناکر بےقصوروں کے مقدمات لڑنے کی تیاری کررہی ہے۔وفد میں شامل جمعیۃ علماء کے ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی نے کہا کہ امن ہر انسان، علاقے اور ملک کی ضرورت ہے، کسی بھی سماج یا ملک کی ترقی کیلئے امن ہونا نہایت ضروری ہے، لیکن امن کیسے قائم ہوگا اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ امن کے قیام کیلئے سب سے بنیادی چیز مساوات اور انصاف ہے، اگر حکومتیں تمام شہریوں کو ایک نگاہ سے دیکھ کر سب کے حقوق ادا کریں اور سب کے ساتھ انصاف کا معاملہ کریں تو یہ امن و امان کے قیام کیلئے سنجیدہ کشش اور اچھی پیش رفت ہوگی۔ بغیر انصاف کے امن کے قیام کی امید رکھنا فضول ہے۔ مولانا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا اس پورے قضیہ اصل مجرمہ اب تک گرفتار نہیں کی گئی ہے جبکہ اس کی گرفتاری کی مانگ کرنے والے سینکڑوں نوجوانوں کو سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، حکومت کے اس رویہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سب کا ساتھ اور سب کا وکاس کا نعرہ محض نعرہ کے سوا کچھ نہیں ہے۔وفد میں قومی جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی، ریاستی نائب صدر مولانا امین الحق عبداللہ قاسمی، دینی تعلیمی بورڈ اترپردیش کے جنرل سکریٹری مفتی جمیل الرحمان پرتاپگڑھ، جمعیۃ علماء پرتاپگڑھ کے جنرل سکریٹری مولانا فاروق قاسمی، جمعیۃ علماء کوشامبی کے صدر مفتی مرشد قاسمی، مفتی حبیب الرحمن قاسمی مئو ائمہ، جمعیۃ علماء اترپردیش کے سابق سکریٹری قاری عبدالمعید چودھری، جمعیۃ علماء وسطی اترپردیش کے خازن مفتی اظہار مکرم قاسمی اور محمد سعد موجود تھے۔