انٹر میں صرف 35 فیصد مارکس دینے سے اعلیٰ تعلیمی کورسیس میں داخلہ ملنا مشکل

   

تقریباً 2 لاکھ طلبہ میں تشویش کی لہر ، پراکٹیکلس میں صد فیصد مارکس دینے سے مسئلہ حل ہونے کا دعویٰ
حیدرآباد :۔ ڈگری کے مختلف کورسیس میں داخلے کے لیے انٹر میڈیٹ میں کم از کم 45 فیصد مارکس حاصل کرنا لازمی ہے ۔ تاہم کورونا کے باعث تلنگانہ حکومت نے انٹر میڈیٹ سکنڈ ایر کے سالانہ امتحانات کو منسوخ کرتے ہوئے فرسٹ ایر میں طلبہ نے جو مارکس حاصل کئے ہیں وہی مارکس سکنڈ ایر میں دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے ہیں ۔ ساتھ ہی فیل ہونے والے طلبہ اور امتحانات تحریر نہ کرنے والے طلبہ کو 35 فیصد مارکس دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس سے 35 فیصد مارکس سے کامیاب ہونے والے طلبہ اپنے مستقبل کو لے کر فکر مند ہوگئے ہیں اور ان میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ گذشتہ سال انٹر میڈیٹ فرسٹ ایر میں 1,99,019 طلبہ فیل ہوئے یا کئی طلبہ ایک دو مضامین اور چند طلبہ تین چار مضامین میں بھی ناکام ہوئے ہیں ۔ دوسری جانب امتحانات تحریر نہ کرنے والے طلبہ بھی موجود ہیں ۔ حکومت نے ایسے تمام طلبہ کو 35 فیصد مارکس سے کامیاب بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ساتھ ہی اوپن اسکول سوسائٹی نے بھی انٹر میڈیٹ بورڈ کی جانب سے دئیے جانے والے مارکس کی بنیاد پر اپنے حدود میں شامل انٹر میڈیٹ کے طلبہ کو 35 فیصد مارکس فراہم کرنے کا جائزہ لے رہی ہے جس سے 50 ہزار طلبہ میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے ۔ کورونا بحران کی وجہ سے گذشتہ سال بھی 40 ہزار طلبہ کو انٹر میڈیٹ میں 35 فیصد مارکس دئیے گئے تھے ۔ دوسری ریاستوں کے خانگی تعلیمی اداروں ، خانگی ڈیمڈ یونیورسٹیز ، ڈگری ، بی ٹیک ، بی فارمیسی ، لا جیسے کورسیس میں داخلہ حاصل کرنے سے محروم رہ گئے ۔ 35 فیصد مارکس دینے پر طلبہ کامیاب تو ہوگئے مگر وہ اعلیٰ تعلیم کورسیس میں داخلہ حاصل نہیں کرپائے ۔ اگریکلچر ، لا ، میڈیسن ، انجینئرنگ اور دوسرے ڈگری کورسیس میں داخلوں کے لیے طلبہ کا انٹر میڈیٹ سکنڈ ایر میں 45 فیصد مارکس سے کامیابی حاصل کرنا لازمی ہے ۔ حکومت کے کنٹرول میں رہنے والے قومی تعلیمی اداروں اور ریاست میں ایمسیٹ کیلئے ان قواعد کو برخاست بھی کیا جاتا ہے تو خانگی تعلیمی اداروں میں یہ شرط برقرار رہے گی ۔ مرکزی حکومت نے گذشتہ سال جے ای ای کے طرز پر امتحانات تحریر کرنے اور آئی آئی ٹی میں داخلوں کے لیے 45 فیصد مارکس کے قواعد کو کورونا کی وجہ سے برخاست کیا تھا لیکن خانگی تعلیمی ادارے ، ڈیمڈ یونیورسٹیز ، خانگی یونیورسٹیز نے اس کو قبول نہیں کیا ۔ بورڈ آف انٹر میڈیٹ کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ 45 فیصد سے کم مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کی بہت کم تعداد ہے ۔ ایسے طلبہ کیلئے متبادل راستہ اختیار کرنے کا حکومت جائزہ لے رہی ہے ۔ پراکٹیکلس میں 100 فیصد مارکس دینے کی وجہ سے انٹر فرسٹ ایر اور سکنڈ ایر میں 45 فیصد سے کم مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کی تعداد بہت کم ہوجاتی ہے ۔۔